Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 3 july, 2009, 07:36 GMT 12:36 PST

آسٹریلیا میں تین نئے ڈائنوسار دریافت

بینجو ڈائنوسار پھرتیلا اور کم وزن تھا

آسٹریلوی ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئنز لینڈ کے علاقے میں کھدائی کے دوران ملنے والے فوسلز سے ڈائنوسار کی تین نئی اقسام کا پتہ چلا ہے۔

ماہرین کے مطابق ونٹن فارمیشن کے نام سے پہچانی جانے والی چٹانوں سے ملنے والے یہ فوسل قریباً ایک سو ملین سال قدیم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان فوسلز میں سے ایک شکاری ڈائنوسار کا ہے جس کے چھ بڑے پنجے تھے جبکہ دیگر دو فوسل سبزی خور ڈائنوسارز کے ہیں جن میں سے ایک زرافے کی مانند لمبا تھا اور دوسرا دریائی گھوڑے جیسی ٹھوس جسامت کا مالک تھا۔

ان ڈائنوساز کو مشہور آسٹریلوی نغمے ’والٹزنگ میٹلڈا‘ کے کرداروں کے نام دیے گئے ہیں۔

کوئنز لینڈ عجائب گھر کے ماہر سکاٹ ہکنل کے مطابق شکاری ڈائنوسار آسٹریلوونیٹر ونٹنیسس جسے بینجو کا نام دیا گیا ہے، اس ویلوکریپیٹر ڈائنوسار سے کہیں بڑا اور خوفناک تھا جسے ہالی وڈ کی فلم سیریز ’جراسک پارک‘ سے شہرت ملی ہے۔ ان کے مطابق یہ ڈائنوسار پھرتیلا اور کم وزن تھا اور اپنے شکار کو کھلے علاقے میں با آسانی شکار کر لیتا تھا۔

ان دریافتوں نے آسٹریلیا کو انیس سو اکیاسی کے بعد ایک مرتبہ پھر ڈائنوسارز کی دریافت کے حوالے سے عالمی نقشے پر نمایاں کیا ہے۔

جان لانگ

سکاٹ ہکنل کا کہنا ہے کہ کلنسی نامی سبزی خور ڈائنوسار ایک طویل قامت پتلے جسم کا جانور تھا جبکہ میٹلڈا بھرے جسم اور دریائی گھوڑے جیسی جسمانی ساخت کا مالک تھا۔ یہ دونوں سبزی خور چوپایے ٹائٹنوسارز کی نئی اقسام ہیں۔ ٹائٹنوسارز کو زمین پر پایا جانے والا سب سے بڑا جانور تصور کیا جاتا ہے۔

ان ڈائنوسارز کی دریافت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کوئنزلینڈ کی وزیراعظم اینا بلائی نے کہا ہے کہ یہ دریافتیں آسٹریلیا کی قبل از تاریخ زندگی کے بارے میں سائنسی طور پر جاننے کے حوالے سے نہایت اہم قدم ہے۔

وکٹوریا عجائب کے گھر کے ماہر جان لانگ نے ان دریافتوں کو شاندار قرار دیا ہے۔ آسٹریلوی اخبار کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان دریافتوں نے آسٹریلیا کو انیس سو اکیاسی کے بعد ایک مرتبہ پھر ڈائنوسارز کی دریافت کے حوالے سے عالمی نقشے پر نمایاں کیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔