Advertisement
آخری وقت اشاعت: Wednesday, 1 April, 2009, 13:28 GMT 18:28 PST

استوائی خطے: لڑکیوں کی پیدائش زیادہ

استوائی علاقہ

شدید ماحولیاتی دباؤ اور جنگ کے دوران لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی پیدائش میں اضافہ ہو جاتا ہے

ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے دوسرے خطوں کے مقابلے میں استوائی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے یہاں لڑکیوں کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے۔

رائل سوسائٹی جرنل آف بائیولوجی لیٹرز سے تعلق رکھنے والی امریکی محقق ڈاکٹر کرسٹین نوارا کے مطابق استوائی علاقے میں رہنے والوں کے یہاں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی پیدائش کو ارتقائی برتری حاصل ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں کا موسم اسقاط حمل کے تناسب اور سپرم کے معیار کو تبدیل کر سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ہو سکتا ہے کہ جیسے جیسے جنوب کی جانب جائیں تو لڑکیوں کی پیدائش میں کمی آ جائے جبکہ ماہرین پہلے سے ہی اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کے مختلف حصوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کی پیدائش کی تعداد میں فرق پایا جاتا ہے۔

محققین کی رائے ہے کہ شدید ماحولیاتی دباؤ اور جنگ کے دوران لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی پیدائش میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جبکہ ماہرین کا خدشہ ہے کہ جغرافیہ کا بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علاقے قدرے الگ ہیں اس لیے ابھی نتائج کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ ثقافت، معاشرے اور معاشی حالات کی وجہ سے نتائج میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

جارجیا یونیورسٹی کی ڈاکٹر نوارا کی دنیا میں جنسی تناسب جاننے کے لیے دو سو بیس ممالک میں دس سال تک کی گئی تحقیق کے مطابق دنیا میں مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے اور اس وقت ایک سو چھ مردوں کے مقابلے میں ایک سو خواتین ہیں۔ جبکہ اس وقت دنیا میں وسطی افریقی ریپبلک واحد ملک ہے جہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی کالج لندن کے ڈاکٹر بلِ جیمز کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیدائش کے حوالے سے بہت اچھی معلومات کی گئی ہیں تاہم یہ اتنا معنی خیز نہیں جتنا کہ دوسرے عوامل جن کا تعلق پیدائش کے وقت جنس سے ہے۔

ڈاکٹر بل کا کہنا ہے کہ جب لوگ مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہوں تو اس وقت لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی پیدائش میں اضافہ ہو جاتا ہے تاہم اس کے بارے میں بھی تحفظات ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔