Advertisement
آخری وقت اشاعت: Wednesday, 4 March, 2009, 18:49 GMT 23:49 PST

گندے انڈوں کی بدبو میں جنسی توانائی

گندے انڈوں

گندے انڈوں سے نکلنے والی گیس ہائیڈروجن سلفائیڈ ہوتی ہے

گندے انڈوں سے نکلنے والی بدبو کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں جنسی کمزوری کی ایک دوا کا راز پوشیدہ ہو سکتا ہے۔

اٹلی کی یونیورسٹی آف نیپلز کے ماہرین کی ایک ٹیم کے مطابق گندے انڈوں سے نکلنے والی گیس، ہائیڈروجن سلفائیڈ، مردانہ جنسی طاقت کو بڑھانے میں معاون ہوتی ہے۔

اطالوی ماہرین نے اپنی تحقیق جریدے نیشنل اکیڈمی آف سائنس میں شائع کی ہے جس میں ان کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کے نتیجے میں جنسی توانائی کی مشہور عالم دوا 'ویاگرہ' کا بدل بنانے میں کامیابی ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ہر دس میں سے ایک مرد کو جنسی کمزوری کا سامنا رہتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ہائیڈوجن سلفائیڈ جنسی اعضاء میں خون کی نالیوں میں تناؤ کو کم کرتی ہے جس سے خون کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہائیڈوجن سلفائیڈ گندے انڈوں کے علاوہ گاڑیوں کے ایگزاسٹ سے بھی خارج ہوتی ہے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم نے آٹھ مردوں کو کئی چوہوں کی جنسی توانائی پر مذکورہ گیس کے اثرات کا مطالعہ کیا۔

ٹیم کے سربراہ پروفیسر گیسپو سیرینو کا کہنا ہے کہ تجربات کی بنیاد پر انہیں لگتا ہے کہ مردوں کو چوہوں کی جنسی توانائی میں بہتری کا سبب مذکورہ گیس ہی تھی۔ اسی بنیاد پر ان کا کہنا ہے کہ یہ دریافت جنسی کمزوری کی کسی نئی دوا بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

برطانوی ادارے، سیکشؤل ڈِسفنگشن ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر گراہم جیکسن نے اس مطبوعہ تقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنسی کمزوری کی نئی دوا کی دریافت بہت خوش آئند خبر ہو سکتی ہے۔

نہوں نے کہا کہ ویاگرا کا کوئی بدل بنانے کے یقیناً ضرورت ہے کیونکہ ویاگرا شوگر کے مریضوں میں صرف ساٹھ فیصد اور عام لوگوں میں اسی سے پچاسی فیصد کامیاب رہتی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔