گوادر کے قریب حملے میں گیارہ افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 دسمبر 2012 ,‭ 04:58 GMT 09:58 PST

انسانی سمگلر اکثر گوادر کے راستے لوگوں کو ایران اور وہاں سی ترکی اور یونان لے کر جاتے ہیں جہاں ان پر شدت پسند حملے کرتے ہیں۔

بلوچستان کے علاقے گوادر کے قریب مبینہ شدت پسندوں کے حملے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے جو غیر قانونی طور پر ایران جا رہے تھے۔

مکران کے کمشنر عبدالفتح بھنگر نے بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ گیارہ افراد مبینہ شدت پسندوں کے حملے میں سنٹسر کے علاقے میں ہلاک ہو گئے۔

کمشنر عبدالفتح نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق پنجاب اور بلوچستان کے بعض علاقوں سے تھا جنہیں انسانی سمگلرز ایران لے کر جا رہے تھے۔

یاد رہے کہ انسانی سمگلر اکثر گوادر کے راستے لوگوں کو ایران اور وہاں سے ترکی اور یونان لے کر جاتے ہیں۔

رواں سال سات جولائی کو اسی نوعیت کے ایک واقعے میں بلوچستان کےعلاقے تربت میں مسلح افراد کی فائرنگ سے اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے جو غیرقانونی طور پر ایران جا رہے تھے۔

سات جولائی کو ہونے والا ہلاکتوں کا یہ واقعہ جمعے کی شب ایرانی سرحد سے نوے کلومیٹر دور پاکستانی حدود میں ہورشولی کے مقام پر اس وقت پیش آیا تھا جب غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے افراد کی گاڑیوں پر موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی تھی۔

حکام کے مطابق انسانی سمگلرز پہلے تربت سے پاک ایرانی سرحد کے پوائنٹ مند کی جانب لوگوں کو لے کر جاتے ہیں یا پھر کم استعمال کیے جانے والے راستے استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔

تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔