|
ایران بم بنانے کا یورینیم رکھتا ہے
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے اعلی ترین فوجی کمانڈر نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کہ پاس ایک ایٹم بم بنانے کا جوہری مواد موجود ہے۔
امریکہ کی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک ملن نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا ہے ’ہمیں معلوم ہے کہ ان کے پاس اتنا مواد موجود ہے۔‘ ایڈمرل ملن کے بیان کے برخلاف امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے معاملے پر ایک دوسرے امریکی ٹی چینل این بی سی کو بتایا کہ ایران ابھی جوہری ہتھیار بنانے کے قریب نہیں پہنچا اور ان کے پاس اتنا جوہری مواد موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اسی بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کسی طرح ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے باز رکھا جا سکے۔ ایڈمرل مائیک ملن نے کہا کہ ’ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونا، ان کا بہت عرصے سے یہی خیال ہے کہ، خطے اور دنیا کے لیے بہت برا ہوگا۔‘ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغرب کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے نے دو ہفتے قبل ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ تہران نے کافی جوہری مواد اکھٹا کر لیا ہے۔ اس رپورٹ نے مغرب میں تشویش پیدا کر دی تھی کہ جتنا یورنیم ایران نے افزودہ کر لیا ہے کہیں اس کی مقدار کو کم کرکے تو نہیں بتایا۔ آئی اے ای اے کی رپورٹ میں ایران کے پاس موجود جوہری مواد کی مقدار میں گزشتہ نومبر کے مقابلے میں کافی اضافہ ظاہر کیا گیا۔ گزشتہ نومبر میں ایران کے پاس ایک ہزار دس کلو گرام کم افزودہ یورنیم موجود تھا۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اتنی مقدار میں کم افزودہ یورنیم کو آسانی سے زیادہ افزودہ یورنیم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو کہ جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کے ڈیوڈ ایلبرائٹ کے مطابق یہ مقداد جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ |
اسی بارے میں
ایران، جوہری ریئکٹر کی آزمائش25 February, 2009 | آس پاس
ایران جوہری پروگرام پر قائم23 July, 2008 | آس پاس
مثبت بات چیت کے خواہاں ہیں: ایران18 July, 2008 | آس پاس
امریکہ کی شرکت مثبت قدم: ایران18 July, 2008 | آس پاس
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||