http://www.bbc.com/urdu/

Wednesday, 14 January, 2009, 12:34 GMT 17:34 PST

غزہ ہلاکتیں ایک ہزار سے تجاوز کر گئیں

غزہ پر اسرائیلی حملے کے انیسویں روز لڑائی میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے اور ہلاک ہونے والے فلسطینوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نےغزہ کو تقریباً چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی کےلیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مشرق وسطیٰ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ جنگ بندی کی کوششیں کر رہے ہیں۔

غزہ: یہ جنگ کیسے بند ہو گی؟ آپ کی رائے
غزہ میں کارروائی کا اٹھارہواں دن
اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور
غزہ: غضب کا سولہواں دن
’بیالیس فیصد مرنے والے بچے اور عورتیں‘
غزہ میں جارحیت پر شدید احتجاج

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مصر کے صدر حسنی مبارک سے ملاقات کے علاوہ سعودی بادشاہ عبداللہ سے بھی بات چیت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل حماس پر دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ وہ جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کر لے۔

حماس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کسی بھی سیز فائر معاہدے میں اسرائیل کا غزہ سے فوراً انخلاء اور مکمل جنگ بندی شامل ہونا صروری ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مشرق وسطیٰ کے دورے میں شام، فلسطین، اسرائیل اور اردن کے حکام سے ملاقاتیں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری کا حماس لیڈروں سے ملنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کیا وہ غزہ میں بھی جائیں گے یا نہیں۔

غزہ میں اسرائیلی آپریشن بدستور جاری ہے۔ اسرائیلی فوجیوں اور حماس کے جنگجوؤں میں شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ ایسی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ لبنان سے دو راکٹ اسرائیل میں داغے گئے جن سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔

پچھلے ہفتے بھی لبنان سے اسرائیل پر دو راکٹ داغے گئے تھے۔ لبنان کی ملیشیا حزب اللہ نے راکٹ داغنے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے لبنان پر چھ راکٹ داغے ہیں۔

انیس روز پہلے غزہ پر حملے کے بعد اب تک ایک ہزار کے قریب کے افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ چار ہزار چار سو زخمی اور نوے ہزار اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

غزہ پر حملے کے بعد اسرائیل کے دس فوجیوں سمیت تیرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بی بی سی کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد پہلی اسرائیلی کابینہ میں اختلافات پیدا ہونے کے کچھ آثار سامنے آئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک ایک ہفتے تک غزہ پر حملے روکنے کے حق میں ہیں جبکہ وزیر اعظم ایہود اولمرٹ پوری شدت کے ساتھ حملے جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل شہری آبادی میں جنگ کرنے سے کترا رہے ہے کیونکہ اس میں جانی نقصان کا زیادہ اندیشہ ہے اور یہ جانی نقصان کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اسرائیل میں ایک ماہ کے اندر عام انتخاب ہونے والے ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز غزہ میں مختلف ٹھکانوں پر ساٹھ حملے کیے گئے جس دوران پینتیس ایسی سرنگیں تباہ کر دی ہیں جن کے ذریعے حماس کے جنگجو اسلحہ سمگل کرتے تھے۔

ادھر اقوام متحدہ میں بچوں کے حقوق سے متعلق کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی بچوں کی حفاظت کے معاملے سے لاپرواہی برت رہا ہے اور غزہ میں جاری تشدد کے نتیجے میں فلسطینی بچوں کی ایک پوری نسل سنگین نفسیاتی اور جذباتی مشکلات کا شکار ہوگی۔

کمیٹی نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کا بالکل خیال نہیں کر رہا حالانکہ وہ اقوام متحدہ کے اس معاہدے پر دستخط کر چکا ہے جس میں ان مقامات پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے جہاں بچوں کی موجودگی کا علم ہو۔ عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے سربراہ یعقوب گیلین برگر نے بھی منگل کو غزہ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے علاقے کا دورہ کیا تھا۔ دورے کے بعد انہوں نے اس بات پر سخت تشویش ظاہر کی کہ متاثرہ افراد تک بر وقت امداد پہنچنے نہیں دی جا رہی، اور نہ ہی امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

دیگر امدادی تنظیمیں بھی اسرائیلی فوج پر نہ صرف امدادی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے بلکہ امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی لگا رہی ہیں۔

تاہم اسرائیل اپنے موقف پر اڑا ہوا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جب تک حماس اپنے راکٹ حملے اور اسلحے کی سمگلنگ نہیں روکتا یہ سب نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین کے مرکزی مذاکرات کار صائب اراکات نے بھی کہا ہے کہ تمام فلسطینیوں کو اب متحد ہو کر مصری تجویز کی حمایت کرنی چاہیے ورنہ فلسطینیوں کا قتلِ عام جاری رہے گا۔