|
ایران عراق جنگ، لاشوں کا تبادلہ
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران اور عراق نے سنہ دو ہزار تین کے بعد پہلی مرتبہ ان فوجیوں کے باقیات کا تبادلہ کیا ہے جو ان کی آپسی جنگ کے میں ہلاک ہوئے
تھے۔
اس عمل میں دو سو اکتالیس فوجیوں کے باقیات کا تبادلہ کیا گیا۔ ان میں سے دوسو کفن عراقی فوجوں کے تھے جبکہ اکتالیس ایرانی فوجیوں کے۔ یہ رابطہ صدر صدام حسین کے بعد دونوں ممالک میں پہلا رابطہ ہے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کسی تیسرے ملک کے ذریعے فوجی لاشوں کا تبادلہ کرتے تھے۔ ایران اور عراق سرحد شلمجہ کی پوسٹ پر فوجیوں کے کفن ایران اور عراق کے جھنڈوں میں لپٹے ہوئے تھے۔ ان فوجیوں کے رشتہ داروں کے لیے یہ ایک نہایت ہی جذباتی وقت تھا۔ کئی عورتیں بیس سال سے زائد عرصے کے انتظار کے بعد اپنے والد، بھائی یا بیٹے کا کفن دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ عالمی ریڈ کراس کی نگرانی میں لاشوں کا تبادلہ کیا گیا۔ ریڈ کراس ایرانی اور عراقی فوجیوں کے باقیات کی شناخت میں مدد کرے گی۔ ریڈ کراس کا ماننا ہے کہ ابھی بھی ہزاروں فوجی لاپتہ ہیں۔ |
اسی بارے میں
ایرانی صدر عراق کےتاریخی دورے پر02 March, 2008 | آس پاس
’ایران مشرق وسطیٰ کیلیے خطرہ‘08 December, 2007 | آس پاس
بہتری کا دارومدار انخلاء پر: ایران09 August, 2007 | آس پاس
امریکہ، ایران اور شام سے بات پر تیار27 February, 2007 | آس پاس
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||