Sunday, 30 November, 2008, 15:31 GMT 20:31 PST
نائجیریا میں مقامی انتخابات کے نتائج پر تنازعے کی وجہ سےمسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان تصادم میں سینکڑوں لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
جوز شہر میں ایک مسلم خیراتی ادارے کا کہنا ہے کہ ادارے نے تین سو سے زیادہ لاشیں اٹھائی ہیں اس کے علاوہ عیسائیوں میں بھی ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔
بی بی سی نامہ نگار ایلیکس لاسٹ کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان ہلاکتوں کی سرکاری طور پر تصدتق نہیں ہو سکی اور نائجیریا میں اس طرح کی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
نائجیریا میں ماضی میں بھی اس طرح کے پر تشدد واقعات ہوتے رہے ہیں سنہ 2001 میں وسطی نائجیریا کے ایک شہر میں مسلم اور عیسائی تصادم میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
2004 میں پلیتو میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی جہاں عیسائی ملیشیا نے یلوا قصبے میں دو سو مسلمانوں کو ہلاک کر دیا۔
پولیس نے چوبیس گھنٹوں کا کرفیو نافذ کر دیا ہے اور شہر کی سڑکوں پر فوج گشت کر رہی ہے اور دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
سنیچر کو مشتعل لوگوں نے شہر بھر میں گھروں ، مساجد اور گرجا گھروں کو آگ لگائی۔نائجیریا میں ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ تقریباً دس ہزار لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
پلیٹیو ریاست میں عیسائیوں کی حمایت والی حکمران پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جیت کا اعلان کیا گیا تھا الیکشن میں دوسری پارٹی آل نائجیریا پیپلز پارٹی تھی جس کو مسلمانوں کی حمایت حاصل ہے۔
جمعرات کی رات اس وقت تشدد شروع ہوا جب مشتعل نوجوانوں نے انتخابات میں دھاندلیوں کی خبروں پر سڑکوں پر ٹائر جلانے شروع کر دیے۔مسلم ہاؤسہ فرقے کے لوگوں کی لاشوں کو بڑی مسجد کے احاطے میں رکھا گیا ہے۔
مقامی امام شیخ خالد ابو بکر کا کہنا ہے کہ صرف سنیچر کو ہی تین سو سے زائد لاشیں لائی گئی ہیں۔عیسائی فرقے کے لوگوں کی لاشیں غالباً شہر کے مردہ خانے لیجائی جا رہی ہوں گی اس طرح ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
پولیس کے ترجمان بالا قاصم کا کہنا ہے کہ ’متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں‘ لیکن وہ صحیح اعدادو شمار نہیں بتا پائے۔