http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 21 November, 2008, 00:09 GMT 05:09 PST

قزاقی سے یورپ ایشیا تجارت مشکل

جہاز رانی کے ذرائع نے بتایا ہے ایک کمپنی جو اغوا کی وارداتوں کو حل کرنے کی ماہر ہے اغوا شدہ سعودی ٹینکرسیریئس سٹار کے مالکوں اور بحری قزاقوں کے درمیان مذاکرات کرا رہی ہے جن میں جہاز کا عملہ بھی شریک ہے۔

سعودی جہاز کو سنیچر کے روز پچیس رکنی عملے سمیت اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز ایک سو ملین ڈالر کی مالیت کے تیل سے لدا ہوا ہے۔

ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق پچیس ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن کمپنی نے اس خبر کی تردید کی ہے۔ اغوا شدہ جہاز صومالیہ کی ایک بندرگاہ کے قریب لنگر انداز ہے اور کہا جارہا ہے کہ جہاز کے عملے کے ساتھ اچھا سلوک کیا جارہا ہے۔

اس دوران میں سعودی عرب، یمن، اردن صومالیہ اور مصر کے سینیئر سرکاری عہدے داروں کا ہنگامی اجلاس قاہرہ میں ہوا جس میں اس بات پر فکر مندی ظاہر کی گئی کہ قزاقی کا معاملہ اب قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ سعودی جہاز سیریئس سٹار کے اغوا کے بعد سے کم سے کم تین اور جہاز اغوا کیے گئے ہیں۔

نیٹو کی کمان نے اعلان کیا ہے جب تک یورپی بحری بیڑہ تیار نہیں ہو جاتا اس وقت تک بحیرہ عدن میں وہ اپنے جنگی جہازوں کی کارروائی میں اضافہ کر دے گی اور کل نیٹو کے دو جنگی جہاز صومالیہ جانے والے امدادی جہاز کے ساتھ پہرہ دینے کے لیے روانہ ہوگئے جن ایک ترک جہاز بھی شامل تھا۔

نامہ نگاورں کا کہنا ہے کہ سعودی جہاز کو اغوا کرنے والے بہت ہی ماہر قزاق ہیں جن کے دبئی اور قریبی ممالک میں رابطے ہیں۔ اس سے پہلے اغوا کیے گئے جہازوں سے حاصل ہونے والے پیسے سے نئی کشتیاں اور اسلحہ خریدا گیا اور قزاقوں نے قرنِ افریقہ میں اپنا جال پھیلایا۔

بی بی سی افریقہ کے مدیر نے کہا کہ اس وقت خطے کے پانیوں میں تجارتی جہازوں کے ساتھ بحریہ کے کانوائے روانہ کرنے کا نظام قائم نہیں ہے۔ بھارتی اور روسی جہاز اس خطے میں آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ نیٹو اور امریکی بحریہ مل کر تجارتی جہازوں سے رابطے میں رہتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ وہ انہیں بچا سکتے ہیں۔ یورپی یونین کی طرف سے دسمبر میں بحریہ کی ٹاسک فورس کی روانگی متوقع ہے۔