BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 November, 2008, 13:04 GMT 18:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
غیر قانونی تارکین وطن کے لیے معافی؟
 
لندن کے میئر اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ سرکاری معافی کا معیشت پر کیا اثر پڑے گا
لندن کے میئر شہر میں غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایک ایسی سٹڈی کروانے پر غور کر رہے ہیں جس کی مدد سے ممکنہ طور پر انہیں (تارکین وطن) سرکاری معافی مل جائے۔

بورس جونسن کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد جو برطانیہ میں غیر قانون طور پر ملازمین ہیں انہیں کسی بھی صورت میں ڈی پورٹ نہیں کیا جانے والا ہے۔

انہوں نے چینل فور نیوز کو بتایا کہ لمبے وقت سے برطانیہ میں غیر قانونی طریقے سے رہنے والوں کو جب یہاں رہنے کا حق دیا جائے گا تو اس سے ٹیکس رونیو میں زبردست اضافہ ہوگا۔

امیگریشن کے وزیر فیل وولاس کا کہنا ہے یہ ایک بچگانی تجویز ہے اور اس کی وجہ سے اس قسم کی آبادی کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ برطانیہ میں سات لاکھ غیر قانونی تارکین وطن میں سے چار لاکھ کی آبادی لندن میں ہے۔

لندن کے میئر کا کہنا ہے’ میں چاہتا ہوں کہ میرے ہی اقتصادی ماہرین کی ٹیم ایک سٹڈی کرے اور اس میں سرکاری معافی کے بارے میں غور کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا’ ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس قسم کی سرکاری معافی کا معیشت پر کیا اثر پڑے گا۔‘

حالانکہ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ غیر قانونی تارکین وطن نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور اصولاً انہیں ڈی پورٹ کر دینا چاہیے لیکن ان کا کہنا تھا کہ’بد قسمتی سے ایسا نہیں ہونے جا رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ غیر قاتونی نقل مکانی کو بڑھاوا دینا نہیں چاہتے ہیں لیکن اتنے بڑے پیمانے پر ڈی پورپ کرنے میں کئی مالیاتی اور قانونی پیچدگیاں ہیں۔

انہوں نے یہ واضح کیا کہ جن لوگوں کو یہاں رکنے کی اجازت دی جائے گی وہ کم از کم پانچ برس سے تک یہاں رہ چکے ہوں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہاں رہنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے کرمنل ریکارڈ نہیں ہونا چاہیے اور اس شخص کو شہریت حاصل کرنے کے لیے کئی مرحلوں کے امتحانات سے بھی گزرنا پڑے گا۔

ادھر امیگریشن کے وزیر نے بتایا کہ برطانیہ کی بارڈر ایجنسی غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔’ہم اس سلسلے میں کافی کام کر رہے ہیں اور گزشتہ برس ہمیں ہر آٹھ منٹ ميں ایک شخص کو ہٹانے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔‘

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد