|
نیویارک شہر میں ’مسلم پریڈ‘
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک شہر میں مسلم تنظیموں کی طرف منعقد کی جانے والی سالانہ ’مسلم پریڈ‘ میں سینکڑوں مردوں، عورتوں اور بچوں نے حصہ لیا ہے۔
یہ پریڈ نیویارک شہر کے مرکزی علاقے مسشرقی مینہیٹن سے شروع ہوئی جس میں پاکستان، بھارت ، بنگلہ دیش اور مقامی امریکی مسلمانوں کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے امریکی مسلمانوں نے شرکت کی۔ پریڈ میں ایک بڑی تعداد افریقی نژاد امریکی مسلمانوں کی تھی۔ بہت سے لوگ اپنے ملکوں کے روایتی لباسوں میں ملبوس تھے۔ پریڈ میں شرکت کرنے والے مردوں اور عورتوں نے امریکہ سمیت اپنے ملکوں کے پرچم اور کئي تحریری کتبے اٹھار رکھے تھے جن میں ’نسل پرستی اور اسلامی فوبیا بند کرو‘ جیسے نعرے درج تھے۔ پریڈ میں نیویارک سٹی کے کچھ منتخب اراکین اور پولیس کے سینیئر عملدار بھی آگے چل رہے تھے۔ پریڈ کے ایک سینیئر منتظم خالد رمضان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ نیویارک شہر میں سالانہ مسلم پریڈ گزشتہ تیئس برسوں سے روایتی طور اور متواتر منظم ہوتی آرہی ہے۔ یہ پریڈ ویسے تو ہر سال ستمبر کے آخری ہفتے میں ہوا کرتی ہے لیکن رمضان کی وجہ سے اب یہ پریڈ اکتوبر میں ہو رہی ہے۔
’مسلم پبلک ہالیڈے‘ کے نام سے مہم چلانے والے پریڈ میں شامل ابوبکر نے بتایا کہ نیویارک شہر میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم بڑے اسلامی تہواروں کے موقعہ پر نیویارک شہر اور ریاست کی سطح پر سرکاری تعطیلات کیلیے مہم چلا رہی ہے۔ ابوبکر نے کہا کہ مشیگن سمیت کئی ریاستوں میں عید جیسے مسلم تہواروں پر سکولوں میں سرکاری تعطیلات دی جا رہی ہے لیکن نیویارک کی شہری انتظامیہ ابتک مسلم پبلک تعطیلات نہیں منا رہی۔ نیویارک کی مسلم پریڈ کے ساتھ ساتھ اس سے باہر کشمیر کاؤنسل نام کی تنظیم کے سرگرم کارکن ندیم ’کشمیر کو بھارتی فوج کے تسلط سے آزاد کرو‘ کا تحریری کتبہ لیے مارچ کرتے رہے۔ انہوں نے آئندہ ہفتے نیویارک میں بھارتی قونصل خانے کے سامنے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں بھارتی سکیورٹی کے ہاتھوں کشمیریوں پر تشدد کے خلاف نیویارک میں احتجاجی مظاہرے کے پرچے بھی تقسیم کیے۔ مسلم پریڈ کے شرکاء نے نیویارک شہر کی مشہور سڑک میڈیسن سکوائر پر نماز بھی ادا کی۔ |
اسی بارے میں
قرآن کی بےحرمتی، ایک شخص گرفتار01 August, 2007 | آس پاس
’امریکی جیلوں میں قیدیوں پر تشدد‘19 June, 2008 | آس پاس
’جنگ القاعدہ کو کمزور نہ کر سکی‘28 September, 2008 | آس پاس
پاکستان: کنسورشیم تجویز پر اتفاق26 September, 2008 | آس پاس
’سرحدیں عبور کرنے کا حق ہے‘24 September, 2008 | آس پاس
القاعدہ سے تعلق کا الزام نہیں03 September, 2008 | آس پاس
باراک حسین اوبامہ کا نئے امریکہ کا خواب29 August, 2008 | آس پاس
دہشت گردی: اضافہ ہوا ہے یا کمی؟21 May, 2008 | آس پاس
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||