http://www.bbc.com/urdu/

Tuesday, 02 September, 2008, 18:05 GMT 23:05 PST

گستاو، وسیع پیمانے پر تباہی

امریکی ریاست لوئزیانا کے گورنر بابی جنڈال نے کہا ہے کہ سمندری طوفان گستاو نے ریاست میں وسیع پیمانے پر نقصان کیا ہے۔

گورنر بابی جنڈال نے کہا ہے کہ لوئزیانا کے وہ علاقے جہاں سمندری طوفان کی شدت بہت زیادہ تھی ان علاقوں میں کافی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمالی لوئزیانا میں بھی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

گستاو سے نیو اورلینز بچ گیا ہے جہاں دو ہزار پانچ میں کیٹرینا طوفان نے تباہی مچائی تھی۔

واضح رہے کہ سمندری طوفان گستاو امریکہ کے ساحلی علاقوں سے گزرنے کے بعد شہری علاقوں پر بھی اثرانداز ہوا تھا۔ تاہم اس کی شدت میں خدشات کے برعکس کمی واقع ہوئی ہے اور اب اسے درجہ ایک کا طوفان قرار دیا جا رہا ہے۔

گستاو نے امریکہ کے ساحلوں سے ٹکرانے سے قبل کریبیئن میں تباہی مچائی تھی اور اس سے نوے افراد لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

نیو آرلینز سے انخلاء: تصاویر میں
گستاو شہر تک پہنچ گیا

گورنر جنڈال نے ایک پریس بریفنگ میں کہا ’توقع کی جا رہی تھی کہ طوفان مغرب کی سمت مڑے گا لیکن اس کا رخ لوئزیانا کی طرف ہو گیا اور آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنا نقصان ہوا ہو گا۔’

دوسری طرف ہوم لینڈ سکیورٹی سکریٹری مائیکل شرٹوف کا کہنا ہے کہ صحیح وقت پر شہریوں کے انخلاء کی وجہ سے جانیں بچ گئیں۔

طوفان پیر کو امریکی ریاست لوئزیانا کے شہر نیوآرلینز سے ٹکرایا تھا تاہم شہر کو طوفان سے بچانے والا بند سمندری پانی کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے میں کامیاب رہا تھا۔

نیو آرلینز کے میئر رے نیگن نے شہر سے نقل مکانی کرنے والے بیس لاکھ افراد سے کہا ہے کہ وہ کم از کم ایک دن اور شہر سے دور رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام شہر کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیں گے اور’شہر میں دوبارہ داخلے میں ایک دن کا وقت ہے۔ تاہم شہری منگل کو اپنے گھروں کو واپس نہ آئیں‘۔

 طوفان کے مدنظر اس علاقے میں تیل کمپنیوں نے تیل کی پیداوار بند کردی۔ یاد رہے کہ اس علاقے کی تیل کی پیداوار امریکی تیل کی پچیس فیصد ہے۔
 

گستاو جب لوئزیانا پہنچا اس وقت اس کی طاقت کم ہو چکی تھی اور وہ درجہ ایک کا طوفان تھا۔ طوفان کے ساتھ نوّے میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں تھیں۔

طوفان کے نتیجے میں بارش کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر پانی کا راج ہے اور تیز ہواؤں کی وجہ سے کئی جگہوں پر بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے ہیں۔ طوفان کی آمد سے پہلے تقریباً بیس لاکھ لوگوں نے اس کے متوقع راستے میں آنے والے علاقوں سے نقل مکانی کی۔ یہ ریاست کی تاریخ کا سب سے بڑا انخلاء ہے۔

طوفان کے مدنظر اس علاقے میں تیل کمپنیوں نے تیل کی پیداواربند کردی۔ یاد رہے کہ اس علاقے کی تیل کی پیداوار امریکی تیل کی پچیس فیصد ہے۔

سوموار کو طوفان کے کمزور پڑنے کی وجہ سے امریکہ میں تیل کی قیمت میں چار ڈالر فی بیرل کمی ہوئی۔

نیو اورلینز کی دو لاکھ کی آبادی میں سے صرف دس ہزار شہریوں نے انخلاء نہیں کیا۔ اس کے علاوہ میسیسیپی، الاباما اور جنوب مشرق ٹیکساس سے بھی لوگوں ککے انخلاء کی اطلاعات ہیں۔

نیو اورلینز میں تیز بارش ہوئی تاہم شہر میں نصب پمپوں نے پانی کو جمع نہیں ہونے دیا۔

طوفان کا اگلا پڑاؤ ٹیکساس ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق اس کی وجہ سے بیس انچ بارش ہو گی۔ امریکی صدر جارج بُش بھی ٹیکساس میں ہیں جہاں وہ طوفان سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی تیاریوں پر نظر رکھ رہے ہیں۔

صدر بُش نے کہا کہ طوفان گستاو کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار حکومت کی کارکردگی ماضی سے بہتر ہے جب طوفان کترینہ کا سامنا تھا۔