|
ڈیڑھ سو ہلاکتوں پر سپین سوگوار
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میڈرڈ شہر کے براخس ہوائی اڈے پر بدھ کو مسافر طیارے کے حادثے میں ایک سو ترپّن افراد کی ہلاکت کے بعد سپین میں سرکاری طور پر
تین کا سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ تفتیش کار حادثے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے ہوائی جہاز کے ملبے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ہسپانوی حکومت کے مطابق سپین ائر کی تباہ ہونے والی پرواز جے کے 5022میں ایک سو بہتّر افراد سوار تھے اور ہسپانیہ کی وزیر برائے ترقی میگڈلین ایلویرز کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں صرف انیس افراد زندہ بچے ہیں جن میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔
تاحال مرنے یا زندہ بچ جانے والے افراد کی قومیتوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ ہسپانیہ میں گزشتہ پچیس برس میں پیش آنے والے سب سے بڑے ہوائی حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں کی جا سکی ہے تاہم ملبے سے جہاز کا ’بلیک باکس‘ ڈھونڈ لیا گیا ہے۔ بدھ کو ہسپانوی وزیر نے ایک پریس کانفرنس میں طیارے کی تباہی کو ایک حادثہ قرار دیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اڑان بھرتے ہوئے جہاز کے بائیں انجن میں آگ لگی جس کی وجہ سے جہاز رن وے سے اتر کر کھیتوں میں گھس گیا اور پھر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔
سپین کی وزیرِ ٹرانسپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حادثے سسے قبل جب جہاز پہلی مرتبہ رن وے کی جانب چلا تھا تو کپتان کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے اسے واپس لے آیا تھا جس سے پرواز ایک گھنٹے تاخیر کا شکار بھی ہوئی۔ ادھر میڈرڈ میں رات بھر حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین لاشوں کی شناخت کے لیے بنائے گئے عارضی مردہ خانے کے چکر لگاتے رہے۔ یہ عارضی مردہ خانہ شہر کے مضافات میں واقع کنونشن مرکز میں بنایا گیا ہے اور لاشوں کو جائے حادثہ سے مردہ خانے تک پہنچانے کے لیےگاڑیوں کا ایک بڑا قافلہ استعمال کیا گیا۔ اسی کنونشن مرکز کو 2004 کے میڈرڈ ٹرین دھماکوں کے موقع پر بھی بطور مردہ خانہ استعمال کیا گیا تھا۔ میڈرڈ میں بی بی سی کے نمائندے سٹیو کنگسٹن کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں سے متعدد کے لواحقین فضائی کمپنی سپین ائر کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ماہرِ ہوابازی کرس ییٹس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس فضائی کمپنی کے جہاز کو حادثہ پیش آیا ہے اس کا فضائی حفاظتی ریکارڈ بہت اچھا ہے۔ کرس ییٹس نے بی بی سی کو بتایا کہ تباہ ہونے والا جہاز ایک ایم ڈی بیاسی جہاز تھا جسے یورپ میں مختصر دورانیے کی پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
|
اسی بارے میں
طیارے کا حادثہ، ڈیڑھ سو ہلاک20 August, 2008 | آس پاس
مسافر طیارہ تباہ ’دو سو ہلاک‘18 July, 2007 | آس پاس
تہران: فوجی طیارہ تباہ، 38 ہلاک27 November, 2006 | آس پاس
ترکی: طیارہ تباہ، ’تمام مسافر ہلاک‘30 November, 2007 | آس پاس
’آصف کی حراست میں توسیع ممکن‘ 10 June, 2008 | کھیل
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||