BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 30 June, 2008, 11:54 GMT 16:54 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
نیویارک: پی پی پی کارکنوں کا ہنگامہ
 

 
 
نیو یارک
استقبالیہ میں پاکستان سپریم کورٹ بار کونسل کے صدر اعتزاز احسن بھی سٹیج پر موجود تھے
نیویارک میں پاکستان سے امریکہ کا دورہ کرنے والے وکلاء تحریک کے رہنماؤں کو دیے گئے استقبالیہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جسٹس وجیہ الدین احمد کے خلاف ہنگامہ کیا۔ ہنگامہ آرائی اس وقت ہوئی جب جسٹس وجیہ الدین احمد نے اپنی تقریر میں معزول ججوں کے مسئلے پر پاکستان پپیلزپارٹی اور اس کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری اور قومی مفاہمتی آرڈیننس پر تنقید کی جس پر پیپلزپارٹی کے کارکن جسٹس وجیہ اور عدلیہ کے خلاف نعرے لگانے اور چیخنے چلانے لگے۔

نیویارک میں لٹل پاکستان کہلانے والے علاقے کونی آئی لینڈ ایوینیو کے ایک مقامی ریسٹورانٹ میں پاکستانی ایڈووکیٹس فار ہیومن رائیٹس اور پاکستانی امریکن لائرز ایسوسی ایسشن کی جانب سے سابق جسٹس وجیہ الدین اور پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزار احسن اور پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما کے اعزار میں منعقد کیے گئے ایک استقبالیہ میں جسٹس وجیہ الدین احمد نے پیپلز پارٹی کی قیادت اور پالسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کو اپنی قیادت پر ججوں کی بحالی کیلیے زبرست دباؤ ڈالنا چاہیے اور مہذب ملکوں میں وزیراعظموں کا ٹرائل جج کرتے ہیں نہ کہ ججوں کا ٹرائل وزیراعظم۔ اس تقریب میں پاکستان مسلم لیگ اور پی پی پی کے کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

’آپ کا نمائندہ بھی سٹیج پر موجود ہے
 اعتراز احسن نے ڈائس پر آگر ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ کے نعرے لگواتے ہوئے پی پی پی کے مبینہ مشتعل کارکنوں سے اپنے متعلق کہا کہ ’آپ کا نمائندہ بھی سٹیج پر موجود ہے‘
 
اعتراز احسن

جسٹس وجیہ الدین احمد نے جب پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے وزیر قانوں فاروق اے نائک کو جو، بقول جسٹس وجیہ، سول جج تھے لیکن ابھی انہوں نے اس کے بعد ’سول جج سول جج ہی ہوتا ہے‘ کہا تھا کہ ہال میں موجود، پیپلز پارٹی کی کئي کارکنوں نے اپنی کرسیوں پر اٹھ کر کھڑے ہوکر ’جئے بھٹو اور زندہ ہے بھٹو زندہ ہے اور زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘ کے زبر دست نعرے لگانے شروع کر دیے۔

اس دوران جسٹس وجیہ کی تقریر میں بھی مزید جوش آگیا اور انہوں نے کہا کہ قومی مفاہمت آرڈیننس کو جنرل مشرف نے زبردست تحفظ حاصل ہے۔ اس پر پی پی پی کے کارکن مزید مشتعل ہو گئے اور کئی مبینہ پی پی پی کارکنوں نے ریٹائرڈ جسٹس وجیہ الدین احمد پر چيختے چلاتے ہوئے سنہ دوہزار سے پہلے کی عدلیہ اور ان کے جج کے عہدے پر فائز رہنے والے دنوں کے متعلق سوال اٹھانے شروع کیے۔ وہ پوچھ رہے تھے: تب آپ کہاں تھے؟

یہ ہنگامہ اتنا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ تقریب میں مزید بدمزگي اس وقت پیدا ہوئی جب جسٹس وجیہ الدین کے حامی اور پی پی پی یا زرداری کے حامی ایک دوسرے پر بھی چیخنے چلانے اور شدید نعرے بازی کرنے لگے۔

تقریب میں موجود ایک معروف پاکستانی امریکی وکیل سلیم رضوی نے ہنگامہ کرنے والے افراد کو ’ایجینسیوں کے لوگ‘ قرار دیتے ہوئے انہیں ہال سے نکل جانے کو کہا۔

ہنگامہ اور شور شرابہ تب تک جاری رہا جب تک کہ اعتراز احسن نے ڈائس پر آگر ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ کے نعرے لگواتے ہوئے پی پی پی کے مبینہ مشتعل
جسٹس وجیہ الدین کے حامی اور پی پی پی یا زرداری کے حامیوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی
کارکنوں سے اپنے متعلق کہا کہ ’آپ کا نمائندہ بھی سٹیج پر موجود ہے‘۔ جس پر مشتعل کارکن ٹھنڈے ہوکر اپنی نشتوں پر بیٹھ گئے۔

جسٹس وجیہ الدین نے بہرحال پی پی پی کے کارکنوں سے کہا کہ اگر ان کی دل آزاری ہوئي ہے تو وہ ان سے معافی مانگتے ہیں جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی طرف سے خالد اعوان نے بھی ریٹائرڈ جسٹس وجیہ الدین احمد سے معافی مانگی۔

ان سے پہلے اعتزاز احسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی ریاست کی ہئيت میں تبدیلی ان کا پروگرام ہے اور پاکستان کو قومی سلامتی کی ریاست یا نیشنل سکیورٹی کی ریاست کے بجائے فلاحی ریاست بنا نا ہوگا جس میں مرکزی حیثیت فوج کو نہیں ریاست کے عام شہری کو حاصل ہوتی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف پر کڑی نکتہ چينی کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تقریب میں موجود سیاسی کارکنوں او رعام پاکستانی امریکیوں کی بڑی تعداد صدر مشرف کو پھانسی دو کے نعرے لگاتی رہی۔

 
 
اعتزاز احسن اور جسٹس افتخار عدلیہ کی آزادی
لانگ مارچ کا تیسرا اور آخری مرحلہ
 
 
وکلاء کی ہڑتال ہفتہ اظہار یکجہتی
کراچی میں وکلاء کا مکمل بائیکاٹ
 
 
دراب پٹیل ایوارڈ
وکلاء برادری کا یہ ایوارڈ منیرملک نے وصول کیا
 
 
وکلا کا احتجاج وکلا کا احتجاج
’لوگوں کے مسائل کے ذمہ دار وکیل نہیں‘
 
 
وکلاء کی ہڑتال
’اقتصادی مشکلات کے باوجود تحریک جاری‘
 
 
سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
 
 
معزول جسٹس خواجہ محمد شریف ’وکلاء کی قربانی‘
’سیاسی جماعتیں خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں‘
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد