|
کیوبائی اب قانونی طور پر ذاتی کمپیوٹر خرید اورگھروں میں استعمال تو کر سکیں گے لیکن آن لائن نہیں ہو سکیں گے۔
اس اعلان کے ساتھ ہی ہوانا کے تیسرے بڑے شاپنگ سینٹر کے باہر صبح ہی لوگوں کی قطاریں لگ گئیں لیکن ان میں زیادہ تر لوگ صرف کمپیٹر
دیکھنے کے لیے آئے تھے کیونکہ کیوبا میں ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کی عمومی قیمت آٹھ سو ڈالر ہے جب کہ شہریوں کی اوسط آمدنی صرف دو سو
ڈالر ماہانہ ہے۔
تاہم ان میں سے کچھ کیوبائی باشندوں کی آمدنی عام لوگوں کے برخلاف زیادہ ہے کیونکہ ان کے ایسے عزیز ہیں جو کیوبا سے باہر رہتے
ہیں اور انہیں رقوم بھیجتے رہتے ہیں۔
شہریوں کے لیے کمپیوٹر کا حصول ان پابندیوں کے ختم ہونے کے بعد ممکن ہوا ہے جن کا اعلان صدر راول کاسٹرو نے اقتدار سنبھالنے کے
بعد کیا ہے۔ جن اشیاء کے حصول پر سے پابندیاں ختم کی گئی ہیں ان میں بعض گھریلو اشیاء بھی شامل تھیں۔
حالیہ ہفتوں کے دوران کیوبائی شہریوں نے موبائل فون اور ڈی وی ڈی پلئر کے استعمال اور خریداری کی آزادی حاصل کی تھی لیکن کمپیوٹر
خریدنے اور گھروں میں ان کے استعمال کی اجازت ان سب میں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
 |
|
| لوگوں نے دیسک ٹاپ کمپیوٹر خریدنا شروع کر دیے ہیں |
اب بھی انٹرنیٹ کا استعمال بعض کارباری اداروں، سکولوں اور یونیورسٹیوں تک محدود ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امریکی تجارتی پابندیوں
کی وجہ سے سمندر کے نیچے بچھائی گئی فائبر آپٹک کیبل سے منسلک نہیں ہو سکتی۔ کیوبا میں جتنے بھی انٹرنیٹ کنکشن ہیں وہ براستہ سٹلائٹ
ہیں جن کی وجہ سے ان کی بینڈتھ وڈتھ محدود ہے اور استعمال گراں ہے۔
امریکہ کے حریف اور کیوبا کے اتحادی وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز جزائیر غرب الہند میں ایک الگ کیبل بچھانے کا منصوبہ رکھتے ہیں
لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جب یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا تو حکام شہریوں کو ورلڈ وائڈ ویب تک آزادانہ رسائی کی اجازت دیں گے
یا نہیں۔
|