Wednesday, 27 February, 2008, 05:29 GMT 10:29 PST
رابرٹ پِگوٹ
نامہ نگار برائے امورِ مذہبی امور، بی بی سی نیوز
ترکی میں ایک دستاویز کی اشاعت کی تیاری کی جا رہی ہے جس میں اسلام کی از سر نو تشریح اور مذہب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس دستاویز کو انقلابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ترکی کی بااختیار وزارتِ مذہبی امور نے انقرہ یونورسٹی میں مذہبی علماء کی ایک ٹیم کی خدمات حاصل کی ہیں جسے احادیث کا از سر نو جائزہ لینے کا کام سونپا گیا ہے۔ اسلام میں قران کے بعد پیغبر اسلام کے ارشادات اور احکامات کو جنہیں حدیث کہا جاتا ہے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
احادیث جو پیغمبر اسلام کے ہزاروں کی تعداد میں ارشادات اور احکامات پر مشتمل ہیں مسلمانوں کے لیے قران کی تشریح کا ایک ذریعہ ہیں اور بہت سے اسلامی قوانین کی اساس بھی۔
ترک حکومت کا دعویٰ ہے کہ بہت سی ایسی احادیث ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ پیغمبرِ اسلام سے منسوب کر دی گئی ہیں اور بہت سی ایسی احادیث ہیں جن کی از سرِ نو تشریح کی ضرورت ہے۔بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام کے عقائد کی از سر نو تشریح کی جا رہی ہے تاکہ مذہب کی تجدید کی جا سکے۔احادیث پر از سرِ نو نظر ڈالنے کی ضرورت کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اسلام میں دلیل اور منطق جو چودہ سو سال پہلے اس کی بنیاد میں شامل تھی اسی روح کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ترکی میں مذہب میں اصلاحات کا آغاز ہے۔
ترکی کے حکام اس دستاویز کی حساس نوعیت اور اس سے روایتی مسلمانوں میں پیدا ہونے والے ممکنہ تنازعہ کی وجہ سے اس بارے میں پوری رازداری سے کام لے رہے تھے۔ لیکن انہوں نے بی بی سی سے اس کے متعلق بات کی اور اس کے مقاصد بیان کیے۔
انقرہ یونیورسٹی کے مذہب کے شعبے میں احادیث کا باریکی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے مشیر فیلکس کورنر کا کہنا تھا کہ بہت سی ایسی احادیث بھی ہیں جن کے بارے میں یہ دکھایا جا سکتا ہے کہ وہ پیغمبر کی وفات کے سینکڑوں سال بعد وجود میں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آپ چند حدیثوں کی مدد سے خواتین کے ختنے کو جائز قرار دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’گو آپ کو ایسے پیغامات بھی ملیں گے کہ پیغمبر اسلام نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا جب کہ تاریخی طور پر یہ بھی ثابت کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح جب دوسری تہذیبوں اور ثقافتوں کا اثر اسلام پر پڑنے لگا تو یہ رسم مسلمانوں میں رائج ہوگئی‘۔
اصلاحات کے حامیوں کا استدلال ہے کہ اسلامی اقدار کو مختلف ادوار میں دیگر ثقافتوں نے(جن میں سے اکثر قدامت پسند تھیں) بتدریج
اپنے سماجی مفادات اور مقاصد کے لیے استعمال کیا۔احادیث کا نئے سرے سے جائزہ لینے والوں کا کہنا ہے کہ مختلف نسلوں نے اپنے سیاسی
مقاصد کے لیے احادیث میں تبدیلیاں کیں اور انہیں پیغمبر اسلام سے منسوب کر دیا۔
![]() |
|
| بعض احادیث کے بارے میں اکثر مسلمانوں کا خیال ہے کہ انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا |
ترکی کا ارادہ ہے کہ صدیوں کی ان ثقافتی تحریفوں سے جان چھڑائی جائے اور اسلام کی اصل اساس کی طرف لوٹا جا سکے۔
احادیث پر پھر سے نظر ڈالنے کے نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعض ایسے ارشادات بھی ہیں جن کو درست تسلیم کیا گیا تھا لیکن خِود ان میں بھی کچھ ترامیم کی گئی ہیں اور ان کی نئی تشریح ہوئی ہے۔
پروفیسر محمد گورمیز ترکی کے محکمۂ مذہبی امور کے ایک سینئر اہلکارہیں اور احادیث کے عالم بھی ہیں۔ انہوں نےاس بارے میں بہت واضح مثال پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحِ حدیث منصوبے کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ چودہ سو سال پرانی احادیث کا از سر نو جائزہ لینا درست ہے اور ایسا جامع تحقیق اور مطالعے کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔
پروفیسر گورمیز نے کہا کہ پیغمبر نے ایک خطبے میں فرمایا کہ انہیں اس دن کا شدت سے انتظار ہے جب خواتین تنہا لمبے سفر پر جا سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کا مقصد کیا تھا۔
انہوں نے کہا اس طرح کی پابندی ابھی تک کتابوں میں موجود ہے اور یہ عورتوں کے آزادانہ سفر پر قدغن لگاتی ہے۔
ترکی نے اصلاحات کے پروگرام کے تحت ساڑھے چار سو خواتین کو مذہب کی تعلیم دے کر انہیں واعظ بنایا ہے۔ ان خواتین کو ترکی کے وسیع
دیہی علاقوں میں عورتوں کو مذہب کی روح سے روشناس کرانے کا کام سونپا گیا ہے۔
|
ساڑھے چار سو واعظ خواتین
ترکی نے اصلاحات کے پروگرام کے تحت ساڑھے چار سو خواتین کو مذہب کی تعلیم دے کر انہیں واعظ بنایا ہے۔ ان خواتین کو ترکی کے وسیع
دیہی علاقوں میں عورتوں کو مذہب کی روح سے روشناس کرانے کا کام سونپا گیا ہے۔
|
ایک واعظ خاتون نے وسطی ترکی میں خواتین کے ایک اجتماع میں عورتوں کو قرآن میں دیئے گئے برابری، انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں سے آگاہ کیا اور جن کی توثیق پیغمبرِ اسلام کی احادیث سے بھی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں اکثر خواتین پر جبر کرنے کے لیے اسلام کا نام غلط طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کیا جاتا ہے اور مذہب کے نام پر ان خواتین پر ظلم کیا جاتا ہے جو اپنی مرضی کے شخص سے شادی کرنا چاہتی ہیں یا کسی کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں۔
لندن میں قائم چیتھم ہاؤس کے ترک امور کے ماہر فیدی ہاکورا کے مطابق ترکی اسلام کو از سر نو دریافت کر رہا ہے۔ اسے ایک ایسے مذہب کی بجائے جس کے تمام احکامات کی ہرحال میں تائید کرنا لازم ہے، ایسا مذہب کے طور پر دکھایا جا رہا ہے جو کہ جدید سیکولر جمہوریت میں لوگوں کی ضروریات کے مطابق ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے کے لیے ترکی کی ریاست ویسے ہی کر رہی ہے جیسا کہ کلیسیا میں اصلاحات کی گئیں ہیں۔