مارک ایسٹن بی بی سی نیوز ہوم ایڈیٹر
|
 |
 |
|
| مشرقی یورپی خواتین کے بچوں میں گزشتہ دہائی کے مقابلے میں پندرہ ہزار کا اضافہ ہوا |
ایک اندازے کے مطابق برطانیہ کا محکمۂ صحت ہر سال تارکین وطن ماؤں کی زچگی پر تین سو پچاس ملین پاؤنڈ خرچ کر رہا ہے۔ بی بی سی
کو معلوم ہوا ہے کہ یہ رقم گزشتہ دہائی سے دو سو ملین پاؤنڈ سالانہ زیادہ ہے۔
گزشتہ برسوں سے برطانیہ پہنچنے والے تارکین کی بڑھتی ہوئی تعداد سے شرح پیدائش میں اس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ کئی ہسپتالوں
میں زچگی کے یونٹ بند کرنا پڑے ہیں تاکہ نرسوں کو ان علاقوں میں بھیجا جا سکے جہاں ضرورت زیادہ ہے۔
نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کا کہنا ہے کہ وہ تارکین وطن ماؤں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اپنی استعداد میں اضافہ کر رہا
ہے۔
جب گیارہ برس پہلے لیبر پارٹی برس اقتدار آئی تھی تو محکمہ صحت زچگی کے شعبے میں ایک ارب پاؤنڈ خرچ کر رہا تھا اور اس وقت ہر آٹھ
میں سے ایک بچہ تارک وطن ماں کا ہوتا تھا۔ دس سال بعد یہ رقم بڑھ کر ایک اعشارہ چھ ارب پاؤنڈ ہو گئی اور ہر چار میں سے ایک بچہ
ایسی ماں کے ہاں پیدا ہو رہا تھا جو خود برطانیہ میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق نوے کی دہائی کے دوران برطانوی ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں سالانہ چوالیس ہزار کی کمی
دیکھنی میں آئی جبکہ اس دوران تارکین وطن ماؤں کے بچوں میں سالانہ چونسٹھ ہزار کا اضافہ ہوا اور یوں برطانیہ کی مجموعی شرح پیدائش
میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
 |
اندازہ نہیں تھا
 این ایچ ایس کو اندازہ نہیں تھا کہ امیگریشن سے زچگی کے شعبے کو کس قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کے اثرات ہمارے
اندازے سے بہت پہلے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں 
چِیف نرس
|
زچگی سے متعلق برطانیہ کے معتبر جریدے ’جرنل آف اوبسٹٹرکس اینڈ گائینی‘ کے مدیر پروفیسر فلپ سٹیئر کا کہنا ہے کہ ’ محکمۂ صحت شرحِ
پیدائش میں اس تیز تبدیلی سے سٹپٹا گیا ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں آبادی میں تیز اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے لیے حکومت نے کوئی
واضح منصوبہ بندی نہیں کی ہوئی تھی۔‘
قومی اعداد و شمار کے دفتر کے مطابق سنہ دو ہزار چھ میں برطانیہ میں مقیم مشرقی یورپی خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد
میں گزشتہ دہائی کے مقابلے میں پندرہ ہزار کا اضافہ ہو چکا تھا۔ اسی طرح برصغیر سے تعلق رکھنے والی ماؤں کے بچوں میں گیارہ ہزار
جبکہ افریقی ممالک سے برطانیہ ہجرت کرنے والی ماؤں کے بچوں میں آٹھ ہزار کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تارکین وطن ماؤں کی تعداد میں تیز اضافے کے بارے میں صحت کی پالیسی کے ذمہ دار ادارے کا مزید کہنا تھا کہ ان ماؤں کی زچگی کا
مرحلہ اکثر زیادہ پیچیدہ اور خطرناک بھی ہوتا ہے جس وجہ سے اس پر اخراجات زیادہ ہوتے ہیں، مثلاً یہ مائیں ہسپتال کے ساتھ رابطہ
کرنے میں اکثر تاخیر کرتی ہیں اور ان میں زیابیطس، ٹی بی اور ایچ آئی وی ایڈز ہونے کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔
لندن کی چِیف نرس ٹرشا مورس تھامسن تسلیم کرتی ہیں کہ این ایچ ایس کو اندازہ نہیں تھا کہ امیگریشن سے زچگی کے شعبے کو کس قسم
کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ’ اور اس کے اثرات ہمارے اندازے سے بہت پہلے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں کام
کر رہے ہیں تاکہ کے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے محکمے کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔‘
|