BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 05 October, 2007, 07:42 GMT 12:42 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
جنرل پنوشے کے اہلِ خانہ گرفتار
 
آگسٹو پنوشے کے اہلِ خانہ
عدالت نے پنوشے کے اہلِ خانہ کے علاوہ ان کے سترہ ساتھیوں کو بھی گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے
جنوبی امریکہ کے ملک چلی کے سابق آمر جنرل آگسٹو پنوشے کی بیوہ اور پانچ بچوں کو بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پنوشے کے اہلِ خانہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 1973 سے 1990 کے دوران ستائیس ملین ڈالر غیر ملکی بنکوں میں ٹرانسفر کیے۔

گرفتاری کا حکم دینے والے جج کارلوس کریڈا کا کہنا تھا کہ اس بات کے’ٹھوس اشارے‘ ہیں کہ ملزمان ’فنڈز کے غیرقانونی استعمال‘ میں ملوث ہیں۔

عدالت نے جنرل پنوشے کے اہلِ خانہ کے علاوہ ان کے سترہ ساتھیوں کو بھی گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے جن میں پنوشے کے سابق پرسنل سیکرٹری اور تین ریٹائرڈ فوجی جنرل بھی شامل ہیں۔

جنرل پنوشے کے خاندانی وکیل پبلو رادریگز کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے سے حیران ہیں اور یہ ایک’غیر قانونی‘ فیصلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اور انہیں امید ہے کہ عدالت یہ فیصلہ بدل دے گی۔

جنرل پنوشے دسمبر سنہ 2006 میں اکانوے برس کی عمر میں اپنے خلاف رشوت ستانی اور حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کے مقدمے کا سامنے کرنے سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق پنوشے کے دورِ اقتدار میں تین ہزار سے زائد لوگ یا تو ’لاپتہ ہوگئے یا انہیں قتل کر دیا گیا۔

 
 
اسی بارے میں
آگستو پنوشے کی سوانح عمری
11 December, 2006 | آس پاس
چلی کے پنوشےکا انتقال
10 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد