|
جنرل پنوشے کے اہلِ خانہ گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی امریکہ کے ملک چلی کے سابق آمر جنرل آگسٹو پنوشے کی بیوہ اور پانچ بچوں کو بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پنوشے کے اہلِ خانہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 1973 سے 1990 کے دوران ستائیس ملین ڈالر غیر ملکی بنکوں میں ٹرانسفر کیے۔ گرفتاری کا حکم دینے والے جج کارلوس کریڈا کا کہنا تھا کہ اس بات کے’ٹھوس اشارے‘ ہیں کہ ملزمان ’فنڈز کے غیرقانونی استعمال‘ میں ملوث ہیں۔ عدالت نے جنرل پنوشے کے اہلِ خانہ کے علاوہ ان کے سترہ ساتھیوں کو بھی گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے جن میں پنوشے کے سابق پرسنل سیکرٹری اور تین ریٹائرڈ فوجی جنرل بھی شامل ہیں۔ جنرل پنوشے کے خاندانی وکیل پبلو رادریگز کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے سے حیران ہیں اور یہ ایک’غیر قانونی‘ فیصلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اور انہیں امید ہے کہ عدالت یہ فیصلہ بدل دے گی۔ جنرل پنوشے دسمبر سنہ 2006 میں اکانوے برس کی عمر میں اپنے خلاف رشوت ستانی اور حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کے مقدمے کا سامنے کرنے سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق پنوشے کے دورِ اقتدار میں تین ہزار سے زائد لوگ یا تو ’لاپتہ ہوگئے یا انہیں قتل کر دیا گیا۔ | اسی بارے میں لاطینی امریکہ : سیاسی تبدیلیاں، نئے چیلنجز24 December, 2006 | آس پاس پنوشے کے پوتے فوج سے برخواست14 December, 2006 | آس پاس آگستو پنوشے کی سوانح عمری11 December, 2006 | آس پاس ’میرے گیت میں کل کی آشا ہے‘11 December, 2006 | آس پاس پنوشے کی موت کے بعد فسادات11 December, 2006 | آس پاس چلی کے پنوشےکا انتقال10 December, 2006 | آس پاس فوجی حکمران اور اقتدار کا نشہ23 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||