BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ایران میں عارضی شادیوں کا فروغ
 

 
 
ایران میں غیر شادی شدہ جوڑے پولیس کے ہتے چڑھ سکتے ہیں
ایران کے وزیر داخلہ ملک میں معاشرتی مسائل پر قابو پانے کے لیے آج کل عارضی شادیوں کے فروغ کی وکالت کر رہے ہیں۔

شیعہ اسلام مردوں اور خواتین کو ایک مخصوص محدود مدت کے لیے شادی کی اجازت دیتاہے اور یہ مدت ایک گھنٹہ سے ایک صدی تک ہو سکتی ہے۔ ایک مرد ایک وقت میں کئی خواتین کے ساتھ شادی کر سکتا ہے۔

تاہم، ایرانی معاشرہ ایسی شادیوں کو اب بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھتا کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ عارضی شادیاں دراصل ناجائز جنسی تعلقات کو چھپانے کا بہانہ ہیں۔

وزیر داخلہ مصطفٰے پور محمدی، جو کہ خود ایک مذہبی رہنما ہیں، کا کہنا ہے کہ شادی ایک انسانی ضرورت ہے اور عارضی شادی کو صرف جنسی تسکین کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے معاشرتی مسائل کے حل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عارضی شادیوں کو عام کرنے کے لیے معاشرتی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ قدرے کم عمر میں شادیاں کریں۔

ایران میں عارضی شادیوں کو قریباً پندرہ برس قبل پہلی مرتبہ فروغ دینا شروع کیا گیا۔

 اس وقت کے صدر مملکت ہاشمی رفسنجانی کا کہنا تھا کہ یہ کسی بھی مرد یا خاتون کے لیے اپنی جنسی ضروریات پوری کرنے کا جائز طریقہ ہے۔ حتٰی کہ عارضی شادی کرنے کے لیے کسی مولوی کی بھی ضرورت نہیں
 

اس وقت کے صدر مملکت ہاشمی رفسنجانی کا کہنا تھا کہ یہ کسی بھی مرد یا خاتون کے لیے اپنی جنسی ضروریات پوری کرنے کا جائز طریقہ ہے۔ حتٰی کہ عارضی شادی کرنے کے لیے کسی مولوی کی بھی ضرورت نہیں اور ایک مرد اور عورت تخلیے میں بھی ایجاب و قبول کر کے ایسی شادی کر سکتے ہیں۔

آج کل ایران میں وہ لڑکیاں جو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ سفر کرنا چاہتی ہیں، اکھٹے کسی ہوٹل میں رہنا چاہتی ہیں اور پولیس سے بچنا چاہتی ہیں وہ کہہ سکتی ہیں کہ انہوں نے عارضی شادی کر رکھی ہے۔

اس کے علاوہ غریب خواتین اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی عارضی شادیاں کر لیتی ہیں۔

لیکن بحیثیت مجموعی ملک میں عارضی شادی کو خاصی بُری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

ایک خاتون رکن پارلیمان نے ایسے ہی جذبات کا اظہار وزیر داخلہ سے ایک سوال کی صورت میں کیا۔ انہوں نے وزیر سے پوچھا کہ کیا کسی ایسے شخص کو جو ان کی بیٹی کے لیے رشتہ لے کر آئے وہ یہ بتائیں گے کہ ان کی بیٹی اس سے پہلے کتنی عارضی شادیاں کر چکی ہے۔

ایک دوسری رکن پارلیمان نے خبردار کیا ہے کہ عارضی شادیوں کو فروغ دینے سے ہزاروں مسائل جنم لیں گے۔

 ملک میں پہلے ہی ہزاروں بچے ایسے ہیں جو کہ عارضی شادیوں سے پیدا ہوئے ہیں اور انہیں اس لیے غیر قانونی سمجھا جاتا ہے کہ ان کے والد یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ وہ ان کے بچے ہیں
 

ملک میں پہلے ہی ہزاروں بچے ایسے ہیں جو کہ عارضی شادیوں سے پیدا ہوئے ہیں اور انہیں اس لیے غیر قانونی سمجھا جاتا ہے کہ ان کے والد یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ وہ ان کے بچے ہیں۔

گزشتہ نماز جمعہ کے موقع پر وزیر داخلہ نے یہ تجویز بھی دی کہ ملک میں ایک ایسے سینٹر کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو عارضی شادی کے لیے لڑکے اور لڑکیاں تلاش کرنے میں مدد دے۔

اس دوران ملک کے ایک سخت گیر اخبار نے شکایت کی ہے کہ تہران میں ایک ٹریول ایجنٹ غلط اشتہارات دے رہا ہے۔ اخبار کے مطابق ان اشتہارات میں لڑکوں اور لڑکیوں سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ چھٹی گزارنے ساحل سمندر پر جانا چاہتے ہیں اور عارضی شادی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں رہائش کے ساتھ ساتھ ایک نکاح خواں بھی مہیا کیا جائے گا۔

 
 
دیکھئیےایران: فیشن شو میں خواتین
1979 کے انقلاب کے بعد اب فیشن شو میں خواتین
 
 
ایرانی وزیر خارجہہولوکاسٹ کیا؟
ایران میں کانفرنس، ہولوکاسٹ کا جائزہ
 
 
       ایران      کاکروچ کا کارٹون
ایران میں ایڈیٹر، کارٹونسٹ اور اخبار بند
 
 
احتجاجکارٹون تنازعہ، ایک نظر
اسلامی دنیا اور مغرب کے تعلقات میں کتنی نزاکت ہے۔
 
 
سیکس سروےبرطانوی سروے
عمر سے پہلے جنسی تعلق کا رجحان
 
 
جبری شادی کا قانون
برطانیہ میں جبری شادی کو جرم قرار دینے پر بحث
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد