http://www.bbc.com/urdu/

Sunday, 18 February, 2007, 13:12 GMT 18:12 PST

تہران میں پاکستانی سفیر کی طلبی

ایران نے کہا ہے کہ زاہدان میں دو بم دھماکوں کے بعد اس نے پاکستان کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے تاکہ پاک ایران سرحد پر سکیورٹی انتظامات بہتر بنانے پر غور کیا جائے۔

پاکستانی سرحد سے 40 کلومیٹر دور واقع زاہدان کے شہر میں بدھ کو کیے گئے ایک کار بم دھماکے میں پاسداران انقلاب گارڈز کے گیارہ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ زاہدان میں دوسرا دھماکہ جمعہ کو ہوا جس میں ایک شخص زخمی ہوا۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق وزارت خارجہ کے ایک ترجمان محمد علی حسینی نے کہا ہے کہ پاکستانی سفیر شفقت سعید سے ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے اپنی مشترکہ سرحد پر سکیورٹی انتظامات بہتر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق ’پاکستانی سفیر کو ان بم دھماکوں کے سلسلے میں وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا اور مذاکرات کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ سرحدی سکیورٹی کو بہتر بنایا جائے‘۔

محمد علی حسینی کا کہنا ہے کہ پہلے بم دھماکے کے بعد کچھ گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں اور ان افراد نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے ’بیرونی تعلقات‘ ہیں۔

ایران کے خبر رساں اداروں کے مطابق ایک سنی تنظیم جنداللہ نے اپنی ویب سائٹ پر زاہدان میں ہونے والے پہلے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

زاہدان کے ایک رکن پارلیمان حسین علی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سیستان میں بے چینی پھیلانے والے عناصر پاکستانی سرحد کے اندر واقع کیمپوں میں پناہ لیتے ہیں‘۔

ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’گرفتار شدگان نے پاکستان میں واقع تربیتی کیمپوں میں جند اللہ تنظیم کے زیر تربیت رہنے کا اعتراف کیا ہے‘۔

زاہدان کا شہر سیستان کے صوبے میں واقع ہے جہاں گزشتہ چند ماہ کے دوران کافی کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ صوبہ پاکستان کے ساتھ ساتھ افغان سرحد سے بھی متصل ہے اور یہاں سنیوں کی اکثریت ہے۔