|
’کوہ نور کو لاہور واپس بھیجا جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں قومی آرکائیو کے حال میں عام کیے جانے والے دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ 1976 میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے برطانوی وزیر اعظم کو خط میں لکھا تھا کہ ’برطانیہ کو کوہ نور ہیرہ پاکستان کو واپس دے دینا چاہیے۔‘ پاکستانی وزیر اعظم نے اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم جیمز کیلاہین کو یہ خط لکھا تھا۔ خط میں ذوالفقار علی بھٹو نے لکھا تھا کہ ’برطانیہ نے راج کے دور میں جمع کیے گئے قیمتی اشیا کو اپنے قبضے میں اب بھی رکھا ہوا ہے اور اس سے ہمارے عوام میں ثفافتی کمتری اور تاریخی محرومیت کا احساس ہے۔‘ ’کوہ نور ہیرے کی بہت تاریخی اہمیت ہے۔ اسے 1849 میں پاکستان کے ثقافتی مرکز لاہور سے لندن لے جایا گیا تھا۔ کوہ نور کی برطانیہ کے لیے کوئی خاص مالی اہمیت نہیں ہے لیکن پاکستانیوں کے لیے تاریخی اور جذباتی اعتبار سے یہ بہت اہم ہے۔ اگر کوہ نور پاکستان کو واپس کردیا جائے تو اس سے برطانیہ یہ ظاہر کر سکے گا کہ وہ واقعی اپنی نو آبادیاتی تاریخ کو پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے۔‘
بھٹو کے اس خط کے بعد برطانوی حکومت نے سنجیدگی سے کوہ نور کی مِلکیت کے معاملے پر غور کیا تھا۔ ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے سرکاری افسروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس بارے میں قانونی پوزیشن وضع کریں۔ وکلاء سے رجوع کیا گیا، تاریخی ذرائع کی جانچ کی گئی اور مختلف سفارتخانوں سے اس سلسلے میں رابطے کیے گئے۔ اس ہیرے کی ملکیت پر ایران، افغانستان اور بھارت بھی دعوے دار ہو سکتے تھے لہذا ان سے کہا گیا کہ وہ اس کہانی کو ختم کرنے کی پوری کوششیں کریں۔ برطانیہ نے یہ ہیرا ایک امن معاہدے کے ذریعے حاصل کیا تھا اور اسے لندن بھیج دیا تھا۔ اس ہیرے کو ملکہ وکٹوریا کے شاہی تاج میں لگادیا گیا تھا اور یوں یہ شاہی زیوارت یعنی ’کراؤن جیولز‘ کا حصہ بن گیا۔ دستاویزات سے حکومت کی تحقیقات پر وزارت خارجہ کے ایک افسر سی او ہنٹ کی تنقید کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس افسر کو یہ تمام تحقیق غیر ضروری لگی اور انہوں نے لکھا ہے کہ ’ہمیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تلخ حقائق یہ ہیں کہ کوہ نور ہیرا ہمارے پاس ہے چاہے اس کی قانونی حیثیت کوئی بھی ہو اور ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ اسے ہم اپنے پاس ہی رکھیں گے۔‘ برطانوی وزیر اعظم نے بھی بھٹو صاحب کو بتا دیا کہ برطانیہ انہیں کوہ نور واپس لاہور نہیں بھیجے گا۔ | اسی بارے میں ’جوہو پر ہیرے ملنے کی تردید‘29 June, 2005 | انڈیا ہیراسازی: بھارت نمبر ون ہو سکتا ہے08 May, 2005 | انڈیا بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||