|
مصباح کی تلاش تیز تر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں گلاسگو کے ایم پی محمد سرور نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے پاکستان لے جائی جانے والی بارہ سالہ لڑکی مولی کیمبل یا مصباح ارم احمد رانا کی ماں سے ملاقات کریں گے۔ گزشتہ جمعہ کے روز مولی کیبل کے والد اور ان کی بڑی بہن انہیں لاہور لے گئے تھے جس کے بعد سے وہ غائب ہیں۔ ایم پی محمد سرور نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے رابطوں کی وساطت سے مولی کا پتہ لگانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وہ روانگی سے قبل لڑکی کی والدہ لوئیس سے ملاقات کریں گے ۔ دریں اثناء برطانوی دفترخارجہ نے کہا ہے کہ گمشدہ لڑکی کی بازیابی کے لیئے قانونی چارہ جوئی کرنے کا فیصلہ مولی کے گھر والے ہی کر سکتے ہیں۔ تاہم عام خیال یہی ہے کہ مولی کی والدہ مقدمے کی تیاری کر رہی ہیں۔ مولی کی والدہ لوئیس اور اس کے والد ساجد احمد رانا میں علیحدگی ہو گئی تھی جس کے بعد سے مولی اپنی والدہ اور ان کے پارٹنر کینی کیمبل کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ مولی کے دو بھائی اور ایک بڑی بہن بھی ہے۔ بیس سالہ عمر لندن میں رہائش پزیر ہے جبکہ بہن تہمینہ اور دوسرا بھائی آدم اپنے والد کے ساتھ پاکستان میں رہتے ہیں۔ نو ماہ قبل لوئیس گلاسگو چھوڑ کر اپنے پارٹنر کے ساتھ سٹرینریئر نامی قصبے میں منتقل ہو گئی تھی اور مصباح یا مولی کو بھی اپنے ساتھ لے گئی تھیں۔ منگل کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے اپنے سابق شوہر اور بڑی بیٹی تہمینہ سے اپیل کی کہ وہ مولی کو انہیں لوٹا دیں۔واضح رہے کہ لوئیس کو مولی کو اپنے ساتھ رکھنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے سابق شوہر سے چھپنے کی خاطر انہوں نے اٹھارہ ماہ قبل گلاسگو کو خیر آباد کہہ دیا تھا اور سٹرینریئر کے قصبے میں منتقل ہو گئی تھیں۔ اتوار کو مولی کی نانی نے پولیس کے سامنے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ مولی کے والد اسے پاکستان میں زبردستی بیاہ دیں گے۔ چیف انسپکٹر نے اس پر تبصرہ کرنے سےانکار کر دیا تاہم انہوں نے کہا کہ پولیس کے خیال میں مولی پاکستان میں ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ وہ کس شہر میں ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ مولی اور اس کی بڑی بہن کے درمیان گزشتہ جمعہ کو مولی کے سکول میں ملاقات ہوئی جس کے بعد مولی کو گلاسگو سے براستہ دبئی لاہور پہنچا دیا گیا ہے۔ ایم پی محمد سرور نے بدھ کو کہا کہ وہ مصباح یا مولی کی فیملی کو مسئلہ کا بہترین حل ڈھونڈنے میں جو ممکن مدد ہوئی کریں گے۔’ سب سے پہلے میں مولی کی ماں سے بات کروں گا اور پوچھوں گا کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں جانتا ہوں یہ لوئیس کے لیئے مشکل وقت ہے لیکن اس مسئلے میں کئی پیچیدگیاں بھی ہیں اس لیئے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے پہلے دونوں فریقوں کو موقف سنوں گا‘۔ محمد سرور نے امید ظاہر کی کہ وہ پاکستان میں اپنے رابطوں کے توسط سے مولی اور ان کے والد سے رابطہ کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ ایم پی نے کہا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا اس میں یہ بات اہم ہوگی کہ لڑکی کیا چاہتی ہے۔ ادھر پاکستان میں ایک سرکاری ترجمان نے بتایا ہے کہ اس سے سلسلے میں برطانیہ کی جانب سے حکومتی سطح پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے تاہم دفترخارجہ کا بچوں کی گمشدگی سے متعلق یونٹ مسئلہ سے باخبر ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن بھی تفتیش میں حصہ لے رہا ہے۔عملے کے مطابق وہ لڑکی کی ماں اور ان کے وکیل کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ دریں اثناء مسلم ایسوسی ایشن آف بریٹن کے اسامہ سعید نے کہا ہے کہ ساجد رانا کو اس بات پر غصہ ہے کہ مصباح کے پاکستان جانے کے معاملہ کو اغوا کا رنگ دیا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں پسند کی شادی پر جان کے لالے04 May, 2006 | پاکستان برطانیہ: آزاد معاشرہ، جبری شادیاں17 August, 2006 | قلم اور کالم قرآن سے شادی، دس سے پچیس سال سزا14 September, 2005 | پاکستان برطانیہ:ہزاروں ایشیائی خطرے میں03 September, 2005 | نیٹ سائنس ایشیائی بچے زیادہ غریب ہیں 22 August, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||