BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 July, 2005, 16:01 GMT 21:01 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’زیادہ شادیاں کوئی مذاق نہیں‘
 

 
 
 عطو نور
یہ عطو نور کا خاندان ہے۔
ایتھوپیا کا ایک باشندہ عطو نورجس کے گیارہ بیویوں سے ستتر ( 77) بچے ہیں، نے لوگوں کو تلقین کی ہے کہ ضبط تولید کے طریقوں پر عمل کریں اور ہو سکے تو شادی ہی نہ کریں۔

چھپن سالہ عطو نور کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے خاندان کو چھوٹا رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کے طریقوں پر عمل کریں۔

عطو نور کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو کاشتکار بنانا چاہتے ہیں لیکن اس کے پاس زمین نہیں ہے،وہ بچوں کو تعلیم دلوانا چاہتا ہے لیکن اس کے مالی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔

ادیس ابابا سے تین سوکلو میٹر دور جیوی ابوسا گاؤں میں رہنے والے عطو نور کی نصحتیں لوگوں کو زیادہ متاثر نہیں کر رہی ہیں اور ان کا اپنا سب سے بڑا بیٹا تین شادیاں کر چکا ہے۔

عطو نور کی سات بیویوں قریب جھونپڑیوں میں رہتی ہیں جبکہ چار دوسری بیویوں تھوڑے فاصلے دور ایک جھونپڑی میں رہتی ہیں۔

عطو نور کو اپنے تمام بچوں کے نام یاد نہیں ہیں اور ان کی شناخت ان کی ماں کے نام سے کرتا ہے۔

عطو نور کا کہنا ہے کہ وہ ایک زمانے میں امیر آدمی تھا اور وہ اپنی دولت میں لوگوں کوحصہ دینا چاہتا تھا جس کی وجہ سے اس نے اتنی شادیاں کی ہیں۔

عطور نور کی دولت اب ختم ہو گئی ہے اور وہ اپنے بیوی بچوں کو خوراک مہیا کرنے کے قابل بھی نہیں رہا ہے اور وہ جب اپنے بھوکے بچوں کو دیکھتا ہے تو اپنے آپ کو ختم کرنے کی سوچتا ہے۔

عطو نور کی گیارہ بیویوں کے ہاں سو سے زیادہ بچے پیدا ہوئے لیکن تئیس مر گئے۔

عطو کو ایتھوپیا کی حکومت سے شکایت ہے کہ وہ اس کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔

’میں مانتا ہوں کہ میں نے اتنا زیادہ شادیاں کر کے اور اتنے بچے پیدا کر کے برا کیا ہے لیکن میرے خیال ہے کہ میں حکومتی مدد کا حقدار ہوں‘

عطو نور کی سب سے بڑی شکایت سکول کے حکام سے ہے جہاں اس کے چالیس بچے زیر تعلیم ہے ۔

عطو کا کہنا کہ سکول والوں کا مطالبہ ہے کہ ہر بچہ اپنی ایک تصویر سکول میں داخل کرائے تاکہ سکول فائل میں لگایا جا سکے۔ عطو نور کا کہنا ہے کہ چالیس بچوں کی تصویریں بنانے سے اس کی پہلے سے ہی کم وسائل میں کمی ہو جائے گی۔

’لوگ مجھے مزاحیہ شخص تصور کرتے ہیں جبکہ اتنی شادیاں کرنا کوئی مذاق نہیں ہے اور میں زندہ رہنے کے لیے تگ و دو کر رہا ہوں‘

عطو کے سب سے بڑا بیٹا داگنے عطو تینتیس سال کی عمر میں تین شادیاں کر چکا ہے اور چوتھی شادی کی تیاری کر رہا ہے۔ داگنے عطو کے پاس کوئی روزگار بھی نہیں ہے۔

داگنے عطو کے سات بچے ہیں ، اور اس کا کہنا ہے کہ اپنے باپ جتنے بچے پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد