|
’زیادہ شادیاں کوئی مذاق نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایتھوپیا کا ایک باشندہ عطو نورجس کے گیارہ بیویوں سے ستتر ( 77) بچے ہیں، نے لوگوں کو تلقین کی ہے کہ ضبط تولید کے طریقوں پر عمل کریں اور ہو سکے تو شادی ہی نہ کریں۔ چھپن سالہ عطو نور کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے خاندان کو چھوٹا رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کے طریقوں پر عمل کریں۔ عطو نور کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو کاشتکار بنانا چاہتے ہیں لیکن اس کے پاس زمین نہیں ہے،وہ بچوں کو تعلیم دلوانا چاہتا ہے لیکن اس کے مالی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ ادیس ابابا سے تین سوکلو میٹر دور جیوی ابوسا گاؤں میں رہنے والے عطو نور کی نصحتیں لوگوں کو زیادہ متاثر نہیں کر رہی ہیں اور ان کا اپنا سب سے بڑا بیٹا تین شادیاں کر چکا ہے۔ عطو نور کی سات بیویوں قریب جھونپڑیوں میں رہتی ہیں جبکہ چار دوسری بیویوں تھوڑے فاصلے دور ایک جھونپڑی میں رہتی ہیں۔ عطو نور کو اپنے تمام بچوں کے نام یاد نہیں ہیں اور ان کی شناخت ان کی ماں کے نام سے کرتا ہے۔ عطو نور کا کہنا ہے کہ وہ ایک زمانے میں امیر آدمی تھا اور وہ اپنی دولت میں لوگوں کوحصہ دینا چاہتا تھا جس کی وجہ سے اس نے اتنی شادیاں کی ہیں۔ عطور نور کی دولت اب ختم ہو گئی ہے اور وہ اپنے بیوی بچوں کو خوراک مہیا کرنے کے قابل بھی نہیں رہا ہے اور وہ جب اپنے بھوکے بچوں کو دیکھتا ہے تو اپنے آپ کو ختم کرنے کی سوچتا ہے۔ عطو نور کی گیارہ بیویوں کے ہاں سو سے زیادہ بچے پیدا ہوئے لیکن تئیس مر گئے۔ عطو کو ایتھوپیا کی حکومت سے شکایت ہے کہ وہ اس کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔ ’میں مانتا ہوں کہ میں نے اتنا زیادہ شادیاں کر کے اور اتنے بچے پیدا کر کے برا کیا ہے لیکن میرے خیال ہے کہ میں حکومتی مدد کا حقدار ہوں‘ عطو نور کی سب سے بڑی شکایت سکول کے حکام سے ہے جہاں اس کے چالیس بچے زیر تعلیم ہے ۔ عطو کا کہنا کہ سکول والوں کا مطالبہ ہے کہ ہر بچہ اپنی ایک تصویر سکول میں داخل کرائے تاکہ سکول فائل میں لگایا جا سکے۔ عطو نور کا کہنا ہے کہ چالیس بچوں کی تصویریں بنانے سے اس کی پہلے سے ہی کم وسائل میں کمی ہو جائے گی۔ ’لوگ مجھے مزاحیہ شخص تصور کرتے ہیں جبکہ اتنی شادیاں کرنا کوئی مذاق نہیں ہے اور میں زندہ رہنے کے لیے تگ و دو کر رہا ہوں‘ عطو کے سب سے بڑا بیٹا داگنے عطو تینتیس سال کی عمر میں تین شادیاں کر چکا ہے اور چوتھی شادی کی تیاری کر رہا ہے۔ داگنے عطو کے پاس کوئی روزگار بھی نہیں ہے۔ داگنے عطو کے سات بچے ہیں ، اور اس کا کہنا ہے کہ اپنے باپ جتنے بچے پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||