آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 22 september, 2009, 12:37 GMT 17:37 PST

’مذہبی آزادی بھی نہیں ہے‘

میڈیا پلئیر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں خاصے عرصے سے مختلف قوم پرست جماعتوں کے قائدین یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ ان کے حقوق پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ غصب کر رہی ہے۔ لیکن بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بلوچستان میں علیحدگی کی مسلح تحریک بھی زور پکڑ گئی ہے۔ سرحد کی دوسری جانب، ایرانی بلوچستان میں بھی حقوق کی لڑائی جاری ہے اور ان کا رابطہ پاکستانی بلوچوں سے گہرا بتایا جاتا ہے۔

ایرانی بلوچستان کے حقوق کی جماعت، بلوچستان پیپلز پارٹی کے سویڈن میں خود ساختہ جلاوطن، بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ نصیر بلیدی پچھلے دنوں واشنگٹن میں تھے جہاں ان سے ہمارے نامہ نگار جاوید سومرو نے بات چیت کی اور پوچھا کہ ایران میں بلوچوں کی کیا حالت ہے۔ پیش ہے مکمل انٹرویو۔۔۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔