|
جان سلیکی کو رہا کردیں، نواب مری
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری نےاقوام متحدہ کے اہلکار جان سلیکی کو اغوا کرنے والی بلوچ تنظیم سے انہیں رہا کرنے کی اپیل
کی ہے۔
رات دیر گئے نواب مری اور برطانیہ میں مقیم ان کے بیٹے حیربیار مری کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ بلوچوں پر عرصہ دراز سے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں اور شاید جان سلیکی کا اغوا احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے تاکہ بلوچ قومی تحریک کی طرف عالمی دنیا کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔‘ بلوچ رہنماؤں کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ قومی تحریک کو عالمی سطح پر دہشت گردی سے منسوب کیا گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ بلوچ ظالم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ساری مہم میں پاکستانی ادارے ملوث رہے ہیں ۔ اس سے قبل منگل کو پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کے سربراہ نے بزرگ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری سے کراچی میں ملاقات کی تھی اور ان سے جان سلیکی کو رہا کرانے میں مدد کی درخواست کی تھی۔ بیان میں اغواکاروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جان سلیکی کو رہا کردیں تاکہ بلوچ تحریک کو مثبت انداز میں پیش کیا جا سکے۔
حیر بیار مری نے اس سے قبل بھی ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے جان سلیکی کی بازیابی کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربراہ اور سابق وزیر اعلی سردار اختر مینگل کا ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں جان سلیکی کے اغوا کو بلوچ قومی تحریک کے خلاف ایک سازش قرار دیا گیا ہے۔ اس بیان میں انھوں نے کہا کہ اگر اغوا کار بلوچوں کے ہمدرد ہیں تو جان سلیکی کو فوری طور رہا کردیں کیونکہ اس اقدام سے بلوچوں کو دنیا کے سامنے دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی طرف سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا ہےجس میں اغوا کاروں سے اپیل کی گئی ہے کہ جان سلیکی کے حوالے سے وہ اقوام متحدہ سے براہ راست رابطہ کریں۔ جان سلیکی کو کوئٹہ کی چمن ہاؤسنگ سکیم سے فو فروری کو اغوا کیا گیا تھا اور ان کے ڈرائیور کور گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا تین رکنی وفد بغیر حفاظتی انتظامات اور پروٹوکول ایک سفید کار میں نواب مری کے گھر پہنچا تھا جہاں یہ ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ ادھر بلوچ رائٹس کونسل کے رہنما وہاب بلوچ کا کہنا ہے کہ جان سولیکی کے اغوا سے بلوچ تحریک کو فائدہ پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں تک یہ بات پہنچی ہے کہ یہاں ایک قوم بستی ہے جس پر فوج مظالم ڈھا رہی ہے۔ جان سلیکی کو اغوا کرنے والے گروپ کا مطالبہ تھا کہ عقوبت خانوں میں قید بلوچ کارکنوں اور خواتین کو رہا کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے رابطہ کرکے جان سولیکی کی بازیابی پر بات چیت کی تھی۔ جس کے بعد چاغی اور نوشکی کے علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔ |
اسی بارے میں
انجینیئر، بازیابی کے لیے ٹیمیں روانہ29 September, 2008 | پاکستان
’اغواء کاروں کے مطالبات غیرحقیقی‘14 February, 2009 | پاکستان
ایران کے سفارتکار اغوا، محافظ قتل13 November, 2008 | پاکستان
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||