|
سلیکی: ’انسانی بنیادوں پر رہا کرو‘
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ قوم پرست رہنما نورالدین مینگل نے اقوام متحدہ کے اہلکار جان سلیکی کے اغوا کاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر
جان سلیکی کو فوری رہا کردیں۔
واضح رہے کہ اغوا کاروں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی تنظیم بلوچوں کے خلاف مظالم رکوانے کے لیے آواز اٹھائے۔ اس دوران جان سلیکی کا ویڈیو پیغام بھی جاری کیاگیاتھا جس میں انہوں نے اقوام متحدہ اور حکومت پاکستان سے اپیل کی تھی کہ وہ اغوا کاروں کے مطالبات تسلیم کرلیں۔ نورالدین مینگل سردار عطاء اللہ مینگل کے پوتے ہیں اور خود کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے لیے بلوچوں کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ نورالدین مینگل بیرون ملک مقیم ہیں اور انہوں نے یہ اپیل بی بی سی کو ایک ای میل کے ذریعے بھیجی ہے۔ ’جان سلیکی جن کی حراست میں ہیں میں ان سے مؤدبانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ انہیں نقصان پہنچائے بنا انسانی بنیادوں پر رہا کریں اور صدیوں پرانی اس بلوچ روایت کو قائم رکھیں جس کے تحت مہمانوں کی اپنی جان کی قیمت پر حفاظت کی جاتی ہے۔‘ نورالدین مینگل نے کہا ہے کہ جان سلیکی کے اغوا کار جو خود کو بلوچ کہتے ہیں وہ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے پاکستانی ایجنسیوں کو فائدہ پہنچے جو بظاہر جان سلیکی کی بحفاظت رہائی میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان حکومت کی اس طرح کی پالیسیوں کا نوٹس لے اور بلوچ قوم کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرنےکے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ مینگل نے مزید کہا ہے کہ جان سلیکی کی اغوا کاروں کو یہ علم ہونا چاہیے کہ بلوچ عوام کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے اور ان پر مظالم کا ذمہ دار اقوام متحدہ نہیں بلکہ پاکستانی حکومت ہے۔ ان کے مطابق جان سلیکی ایک امدادی ادارے سے منسلک ہیں اور انہیں دشمن کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اغوا کاروں نے جان سلیکی کو بلوچ عوام کی مشکلات کو اجاگر کرنے اور عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے کی خاطر اغوا کیا ہو لیکن اغوا کاروں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس سے بلوچ قومی مفاد کو سخت دھچکہ پہنچے گا۔ اور دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ بلوچ ایک غیر مہذب اور غیر انسانی انتہاپسند ہیں اور اس سے بلوچ قوم تنہا ہوسکتی ہے۔ |
اسی بارے میں
بلوچ مغوی خواتین، تردید کی تردید15 February, 2009 | پاکستان
جان سلیکی کی ویڈیو جاری13 February, 2009 | پاکستان
’فیلڈ‘میں کام کے شوقین افسر13 February, 2009 | پاکستان
جان سلیکی کا کوئی سراغ نہیں10 February, 2009 | پاکستان
’یواین اہلکار کا کوئی سراغ نہیں‘04 February, 2009 | پاکستان
مغوی اہلکار، پندرہ افراد زیرِ حراست03 February, 2009 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||