ذیشان ظفر بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد
|
 |
 |
|
| جان سلیکی کے اغوا کاروں نے جنخواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے انہیں بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے دروان سرکاری خفیہ ایجنیسوں
نے اغوا کیا
|
لاپتہ افراد کی بازیابی کےلیے کام کرنے والی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی سربراہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے دعوی کیا ہے کہ جان سلیکی
کے اغوا کاروں نےجن ایک سو اکتالیس خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا وہ خفیہ ایجنسوں کی تحویل میں ہیں۔
آمنہ مسعو جنجوعہ نے اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعلٰی اہلکار جان سلیکی
کے اغوا کاروں نے جن ایک سو اکتالیس خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے انہیں بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے دروان سرکاری
خفیہ ایجنیسوں نے اغوا کیا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت چاہے تو چند روز کے اندر وہ شواہد کے
ساتھ ثابت کر سکتی ہیں کہ لاپتہ خواتین سرکاری ایجنسوں کی تحویل میں ہی ہیں۔
واضع رہے کہ سنیچر کو وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے کوئٹہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سو اکتالیس خواتین
کی فہرست کے حوالے سے تمام حکام سے بات چیت کی ہے اور یہ خواتین ان کی حراست میں نہیں ہیں۔
انہوں نے جان سلیکی کے اغوا کاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے صبر و تحمل سے کام لیں اور جان سلیکی کو کوئی
نقصان پہنچانے سے گریز کریں اور اس حوالے سے حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن جو سوموار کو ختم ہو رہی ہے اس میں ایک ہفتہ کی مزید توسیع
کریں۔
واضع رہے کہ رواں ماہ دو فروری کو کوئٹہ سے اقوام متحدہ کے اعلی اہلکار جان سلیکی کو اغوا کیا گیا تھا اور ان کے اغواء کی ذمہ
داری تنظیم بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ نے قبول کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان سے خواتین سمیت دیگر لاپتہ ہونے والے افراد کی فوری بازیابی
کا مطالبہ کیا ہے۔
|