|
’اغواء کاروں کے مطالبات غیرحقیقی‘
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعلٰی اہلکار جان سلیکی کے اغوا کاروں کے تینوں
مطالبات غیرحقیقی ہیں اور ان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اغواء کار اقوام متحدہ کے حکام سے براہ راست رابطہ کریں۔ کوئٹہ میں وزیر اعلی سیکرٹیریٹ میں ایک اعلٰی سطحی اجلاس کی صدارت کے بعد مشیر داخلہ نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ جن ایک سو اکتالیس خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ان میں سے کوئی بھی حکومت کے کسی ادارے کی حراست میں نہیں ہے اور نہ ہی چھ ہزار افراد اداروں کے پاس ہیں۔ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان خواتین کی فہرست کے حوالے سے تمام حکام سے بات چیت کی ہے اور یہ خواتین ان کی حراست میں نہیں ہیں اور نہ ہی زرینہ مری نام کی کوئی خاتون کا نادرا یا محکمہ تعلیم سے کوئی ریکارڈ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس فہرست کو ثابت کیا جاسکتا ہے اور ان ایک سو اکتالیس خواتین کے لواحقین یا رشتہ دار ہیں تو وہ وزیراعلی سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اس کے لیے ایک خاص ٹیلیفون نمبر مختص کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ جو کوئی بھی ہمارا دشمن ہے وہ غیر حقیقی مطالبات کے ذریعے ہمیں بدنام کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے‘۔ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ جان سلیکی کی بازیابی کے لیے کوششں کی جارہی ہیں اور بہت جلد انھیں کامیابی حاصل ہوگی۔ ادھر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان بابر بلوچ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اس بات کی خواہاں ہے کہ جن لوگوں کے پاس جان سلیکی ہیں وہ اقوام متحدہ سے براہ راست رابطہ کریں کیونکہ اقوام متحدہ کے حکام اور اہلکاروں کو جان سلیکی کی صحت کے حوالے سے تشویش لاحق ہے۔ رحمان ملک کے بیان کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ جان سلیکی کی جلد از جلد بازیابی چاہتے ہیں اور اگر اغوا کار ان سے براہ راست رابطہ کرتے ہیں تو وہ جان سلیکی کے حوالے سے بھی معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے ایک نئی تنظیم بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ نے جان سلیکی کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی تھی اورگزشتہ روز ان کی ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے کہا کہ وہ بیمار ہیں اور سخت تکلیف ہیں۔ |
اسی بارے میں
’فیلڈ‘میں کام کے شوقین افسر13 February, 2009 | پاکستان
جان سلیکی کی ویڈیو جاری13 February, 2009 | پاکستان
جان سلیکی کا کوئی سراغ نہیں10 February, 2009 | پاکستان
’یواین اہلکار کا کوئی سراغ نہیں‘04 February, 2009 | پاکستان
مغوی اہلکار، پندرہ افراد زیرِ حراست03 February, 2009 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||