|
’فیلڈ‘میں کام کے شوقین افسر
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ سے اغوا ہونے والے اقوام متحدہ کے اعلی اہلکار جان سلیکی کے قریبی رفقاء کا کہنا ہے کہ وہ ایک انتہائی ہمدرد اور خوش مزاج
انسان ہیں۔ ان کے ایک استاد کے بقول’جان فیلڈ میں کام کرنے کو زیادہ پسند کرتا ہے‘۔
جان سلیکی کو دو فروری کو کوئٹہ کی چمن ہاؤسنگ سکیم سے نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھا۔ اس واردات کے دوران اغواء کاروں نے گولیاں مار کر ان کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینہ کے صوبہ بلوچستان میں اعلی اہلکار جان سلیکی امریکی شہری ہیں اور اس ادارے کے ساتھ انیس سو اکیانوے سے وابستہ ہیں۔ وہ گزشتہ دو برسوں سے بلوچستان میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ عالمی ادارے کے ساتھ وابستگی کے دوران وہ کئی ممالک میں کام کر چکے ہیں۔ جان سلیکی نے امریکی تعلیمی اداروں کولمبیا کالج اور سکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے ایک استاد رچرڈ بلیٹ نے ’انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون‘ میں ان کے اغواء کے ایک روز بعد ایک مضمون میں لکھا کہ جان سلیکی اکثر اپنے کیرئر کے بارے میں سوچا کرتا تھا۔ پہلے کنٹریکٹ اور پھر مستقل بنیاد پر اس نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین میں ملازمت اختیار کر لی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد اس نے انہیں بتایا کہ انہیں وہ مل گیا ہے جو وہ چاہتے تھے یعنی وہ ’فیلڈ‘ میں کام کرنا پسند کرنے لگے ہیں۔ انہیں مشکل میں گرفتار لوگوں کی مدد کرنا اچھا لگتا ہے۔ جان سلیکی نے پاکستان آنے سے قبل غزہ کی پٹی، سعودی عراقی سرحد، کردستان اور مصر میں فرائض انجام دیے۔ پاکستان کے بعد ان کا اگلی منزل افغانستان تھی۔ ان کے استاد کے مطابق’ کیوں کوئی ایک ایسے شخص کو اغواء کرے گا جو ایک کشیدگی کے علاقے سے دوسرے تک سفر کرتے رہے، پناہ گزینوں کی مدد کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی ضرور ہیں لیکن ان کا امریکی حکومت یا پالیسیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے‘۔ رچرڈ بلیٹ نے لکھا کہ کوئٹہ میں کام شروع کرنے کے بعد ان کی امریکہ میں ان سے ایک ملاقات ہوئی تھی جس میں جان نے کہا تھا کہ صوبائی خودمختاری کے لیے جدوجہد کرنے والے بلوچ اس کے کام سے ناراض نہیں ہیں اور نہ اسے طالبان کی طرف سے ایسا کوئی خدشہ ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا تھا کہ طالبان اس علاقے میں ہر جگہ موجود ہیں۔
جان سلیکی کے لیے بلوچستان یا کوئٹہ کوئی نئی جگہ نہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان کے اشاعت کے شعبے سے منسلک والدین پچاس کی دہائی میں بلوچستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ وہ گزشتہ برس دوبارہ کوئٹہ بیٹے سے ملنے آئے تھے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے یہاں بلوچستان میں اپنے دو سالوں میں کوئی چالیس ہزار افغان پناہ گزینوں کو اپنے وطن جانے کے لیے مدد فراہم کی اور اس کے علاوہ صوبے میں سیلاب اور زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے بھی پیش پیش رہے۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مدد مانگنے آتا تو وہ دفتری کارروائی کو ایک طرف رکھ کر پہلے متاثرہ شخص کی بات سنتے۔ بلوچستان میں حالیہ زلزلے کے حوالے سے ان کے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ دیگر افراد اس بارے میں اجلاس منعقد کرانے اور دیگر دفتری کارروائیوں میں مصروف ہوگئے لیکن جان سلیکی خود ان کی مدد کے لیے سامان لے کر روانہ ہوگئے تھے۔ یو این ایچ سی آر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے اغوا کے اس واقعہ سے امدادی کارروائیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور اب اانہیں اہلکاروں کے سخت حفاظتی انتظامات کرنے پڑ رہے ہیں۔ جان سلیکی کی ایک امریکی شہری ہونے کے ناطے اس خطرناک خطے میں تعیناتی کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آخر کیوں انہیں ایک ایسے عہدے پر یہاں کام کرنے دیا گیا جس کا روزانہ افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ حکومت پاکستان خود ماضی میں ان کیمپوں میں شدت پسندوں کی کمین گاہوں کا شبہ ظاہر کر چکی ہے۔ ایسے حالات میں انہیں کیوں یہاں رکھا گیا یو این ایچ سی آر حکام کو اس سوال کا جواب ضرور دینا ہوگا۔ |
اسی بارے میں
جان سلیکی کی ویڈیو جاری13 February, 2009 | پاکستان
’یواین اہلکار کا کوئی سراغ نہیں‘04 February, 2009 | پاکستان
نوکری چھوڑنے کی شرط پر رہائی04 February, 2009 | پاکستان
مغوی اہلکار، پندرہ افراد زیرِ حراست03 February, 2009 | پاکستان
اقوام متحدہ کا اعلیٰ اہلکار اغواء02 February, 2009 | پاکستان
کوئٹہ: اقوام متحدہ کا اعلیٰ اہلکار اغواء02 February, 2009 | پاکستان
وزیرستان، پولیٹکل ایجنٹ اغوا08 December, 2008 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||