|
سندھ:عورتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سندھ میں حالیہ دنوں عورتوں کے خلاف مختلف نوعیت کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ تین دنوں میں عورتوں کے خلاف مختلف مقامات پر تشدد کے چار واقعات پیش آئے ہیں جن میں سے دو عورتیں کارو کاری رسم کے تحت قتل کر دی گئیں۔ ایک عورت کےشوہر نے چاقو سے بیوی کا ناک کاٹ دیا اور ایک عورت نے اپنے والدین کے گھر سے پولیس کی مدد سے پناہ حاصل کی ہے۔ تیزاب کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد زخموں سے جانبر نہ ہو سکنے والی پچیس سالہ ماریہ شاہ کا معاملہ بھی خواتین کے ساتھ تشدد کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ماریہ شاہ کراچی کے سول ہسپتال میں منگل کی صبح فوت ہوگئیں۔ انہی واقعات کی ایک کڑی کشمورت کندہ کوٹ ضلع کے علاقے تنگوانی میں ایک شخص حاتم بکھرانی سے ملتی ہے جنہوں نے اپنی بیس سالہ بیوی فرزانہ بکھرانی کی ناک چاقو سے کاٹ دی۔ فرزانہ کے مطابق وہ انہیں کارو کاری الزام کےتحت قتل کرنا چاہتے تھے مگر عزیز واقارب کی مدد سے وہ ہسپتال پہنچ گئیں۔ پولیس نے حاتم بکھرانی کو گرفتار کر لیا ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کے ایک اور واقعے میں شکارپور ضلع میں ایک شخص ارباب شر نے اپنی تیس سالہ بیوی جانل شر کو تین دن قبل گولیاں مارنے کے بعد بغیر غسل و کفن دفنا دیا تھا۔ شکارپور کے ضلعی پولیس افسر خادم رند کےمطابق پولیس نے کارو کاری اطلاعات پر جائے وقوعہ سے لاش برآمد کی جو بغیر کفن کے تھی۔ پولیس نےارباب شر کو گرفتار کر لیا ہے۔
ضلع گھوٹکی ہی میں پیر کے روز شعبان شر نے اپنی بہن بیس سالہ ماروی شر کو فائر کر کے ہلاک کردیا۔گھوٹکی پولیس کے مطابق انہیں ماروی شر کی بغیر کفن و غسل تدفین کی اطلاعات ہیں مگر تاحال ان کے پاس کسی نے رپورٹ درج نہیں کروائی ہے۔ تاہم شکارپور پولیس نے ایک نوجوان ارسلان سنجرانی کو ماریہ شاہ حملے کیس میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کےمطابق ارسلان کا کہنا ہے کہ وہ ماریہ شاہ سے محبت کرتے تھے اور شادی سےانکار کی وجہ سے انہوں نے ماریا پر تیزاب پھینکا تاکہ بقول ارسلان ’اگر ماریہ میری نہیں تو کسی دوسرے کی بھی نہ ہوسکے‘۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ماریہ شاہ پر تیزاب حملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان سمیت کئی اہم حکومتی شخصیات نے ماریا شاہ کی عیادت کی اور انہیں بہتر علاج کی یقین دہانی کروائی تھی۔ ماریہ شاہ کے بھائی مہتاب شاہ نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ حکومتی شخصیات نے پچیس دنوں کےدوران ماریہ کو گلدستے پیش کیے اور عیادت کےدوران فوٹو سیشن کروائے مگر انہوں نےماریہ کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی کوشش نہیں کی۔ ماریہ شاہ کے والد باقر شاہ نے دو دن قبل حکومت سےاپیل کی تھی کہ ماریہ کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجا جائے۔ سندھ کی صوبائی وزیر برائے بہبود خواتین توقیر فاطمہ بھٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ ماریہ شاہ کو حکومتی مدد حاصل تھی۔ انہیں تیزاب حملے کے بعد فوری طور پر کراچی منتقل کیا گیا اور علاج کے تمام اخراجات حکومت نے ادا کیے ہیں۔ توقیر فاطمہ کےمطابق ماریہ شاہ کےوالد کی اپیل کے بعد حکومت انہیں بیرون ملک روانہ کرنےکی تیاریوں میں مصروف تھی۔ انہوں نے مزید
کہا کہ ماریہ کا پاسپورٹ بنوانےمیں ایک دن کی تاخیر تھی کہ ماریا اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ |
اسی بارے میں
گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ26 November, 2008 | پاکستان
زہری اور بجرانی کی برطرفی کا مطالبہ26 November, 2008 | پاکستان
جنسی ہراس کا قانون!11 November, 2008 | پاکستان
’ کاری تھی مگر کتوں کے آگےنہیں پھینکا‘28 October, 2008 | پاکستان
تین ماہ، خواتین پر تشدد، 220 واقعات20 October, 2008 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||