|
ڈیرہ بگٹی: فائرنگ نو افراد ہلاک
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ بگٹی کے علاقے دشت گوران میں شادی کی ایک تقریب پر فائرنگ سے نو افراد ہلاک اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہوئے لیکن پولیس
نے اس واقعہ کی تصدیق نہیں کی ہے۔
نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ بگٹی کی جماعت بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ڈیرہ بگٹی کے صدر شیر محمد بگٹی نے ٹیلی فون پر بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مولوی دولہا اور دلہن سمیت نو افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق بگٹی قبیلے کی زیلی شاخ شمبانڑی اور ڈیوانڑی سے ہے۔ اس شادی کی تقریب میں شریک دولہا کے رشتہ دار تراتی بگٹی نے بتایا کہ ان کے بھائی ممدوست کی شادی تھی کے اس دوران ایف سی کے اہلکاروں نے بیس پچیس گاڑیوں میں ان کے علاقے کا گھیرا ؤ کیا پھر اندھا دھند فائرنگ کی جس میں ان کا ایک بچہ، بیوی، بھائی اور بھابھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نو افراد ہلاک اور اٹھارہ سے بیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ ان کی تدفین کہاں ہوئی اور آپ وہاں سے کیسے نکلے تو انہوں نے کہا کہ وہ نالوں اور خفیہ راستوں سے نکلے اور اب ان کے پاس کفن نہیں ہیں لیکن علاقے کا گھیراؤ جاری ہے اور وہ وہاں نہیں جا سکتے ہیں۔ تراتی بگٹی نے کہا کہ وہ خود زخمی ہیں اور نکاح پڑھانے والے مولوی صاحب بھی ہلاک ہو گئے ہیں اور اب ان کی لاشیں واپس نہیں کی جا رہیں۔ فرنٹیئر کورکے انسپکٹر جنرل میجنر جنرل سلیم نواز نے ایک نجی ٹی وی کو بتایا ہے کہ اس طرح کا کوئی واقع پیش نہیں آیا ہے۔ مقامی پولیس بھی اس واقعہ کی تصدیق نہیں کر رہی ہے۔ شیر محمد بگٹی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اپیل کی ہے کہ وہ خود آکر ڈیرہ بگٹی کا دورہ کریں اور حالات کا جائزہ لیں اس کے علاوہ ادھر ڈیرہ بگٹی میں پیر کوہ کے قریب ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔ کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے اور کہا ہے کہ لوٹی میں بھی ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔ سرباز بلوچ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ڈیرہ بگٹی میں گوڑی کے مقام پر ان کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے ۔ گزشتہ روز فرنٹئر کور کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی گی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ لوٹی اور پیر کوہ میں عسکریت پسندوں کی جانب سے گشت پر معمور اہلکاروں پر حملہ کیا ہے جس میں ایف سی کے دو اہلکار زخمی ہوئے تھے جس کے بعد جوابی کارروائی میں کچھ عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ اس پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایف سی نے علاقے میں گیس پائپ لائنوں پر مسلسل حملوں کے بعد نفری بڑھا دی تھی تاکہ قومی تنصیبات کی حفاظت کی جا سکے۔ |
اسی بارے میں
کوئٹہ میں فائرنگ سے دو ہلاک24 January, 2009 | پاکستان
ہزارہ رہنما ہلاک، ہنگامہ آرائی شروع26 January, 2009 | پاکستان
کوئٹہ: ہزارہ رہنما کے قتل پر ہڑتال27 January, 2009 | پاکستان
ہزارہ راہنما قتل، ہنگاموں کی مذمت27 January, 2009 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||