Thursday, 01 January, 2009, 11:22 GMT 16:22 PST
نثار کھوکھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام سکھر
اقوام متحدہ کےایک ادارے نے پاکستان میں گدھ کی تیزی سے ختم ہونے والی نسل کو بچانےکے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔گدھ کی تیزی سے ختم ہونے والی نسل کےتحفظ کے لیے سندھ کے صحرائی علاقے ننگر پارکر میں ایک گدھ ریسٹورنٹ قائم کیا جا رہا ہے جہاں تنظیم کےمطابق سال بھر گدھوں کو آلودگی سے پاک گوشت فراہم کیا جائے گا تاکہ ان کی شرح اموات کم ہوسکے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یعنی یو این ڈی پی کے سمال گرانٹ پروگرام کے پاکستان میں سربراہ مسعود لوہار نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ ماحول دوست جنگلی حیات گدھ کی نسل خصوصاً سفید پشت والی نسل جنوبی ایشیا میں ختم ہورہی ہے جس کی وجہ سے ماحولیاتی تناسب بگڑنے کا اندیشہ ہے۔
سفید پشت گدھ کی افزائش کے لیے ہندوستان اور نیپال میں سب سے پہلے گدھ ریسٹورنٹ کےتجربات یو این ڈی پی نے کیے ہیں اور پاکستان میں ان کا یہ پہلا تجربہ ہوگا۔ اس سے پہلے ملتان کے قریب کبیر والا میں گدھ کا بریڈنگ مرکز ایک اور عالمی تنظیم نے قائم کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ گدھ ناپید ہونے کی وجہ سے مردہ جانوروں کا گوشت دریاؤں، نہروں اور کھلےمیدانوں میں پھینک دیا جاتا ہے جس کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یو این ڈی پی نے ننگر پارکر میں گدھ ریسٹورنٹ کا انتظام ماحولیات پر کام کرنے والی ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم دھرتی ڈویلپمنٹ سوسائٹی کے سپرد کیا ہے۔ دھرتی تنظیم کےسربراہ منصور ڈاہری نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ صوبے بھر میں گدھ کی نسل نظر نہیں آرہی ماسوا ننگر پارکر جہاں ان کی محدود تعداد دیکھی گئی ہے۔
یو این ڈی پی کے مسعود لوہار کے مطابق ڈیکلوفینک دوائی کے گدھ پر اتنے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ گدھ کے گردے ناکارہ ہو جاتے ہیں اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
لوہار کے مطابق کانفرنس میں سفارش کی گئی ہے کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک ڈیکلوفینک دوائی کی خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کر دیں۔ مگر پاکستان میں اس پر عمل نہیں کیا گیا اور ممنوعہ دوائی مال مویشیوں میں تاحال استعمال کی جا رہی ہے۔
کھٹمنڈو کانفرنس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنےوالی عالمی تنظیموں نے سٹاک ہوم کنوینشن کے بعد ڈی ڈی ٹی پاؤڈر سمیت دیگر ادویات کو ڈرٹی ڈزن قرار دیا تھا اور ان کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی جن پر تمام شریک ممالک نے عملدرآمد کیا ہے مگر پاکستان میں کوئی خاطر خواہ عمل نہیں ہوا۔
دھرتی ڈیویلپمنٹ سوسائٹی کے منصور ڈاہری نے اس بات پر تفتیش کا اظہار کیا ہے کہ میونسپل انتظامیہ ننگر پارکر نے اپنی حالیہ کتا مار مہم کے دوران ڈی ڈی ٹی پاؤڈر کو زہر کے طور پر استعمال کیا اور کھلے میدانوں میں پھینکےگئے مردہ کتوں کاگوشت کھانےکی وجہ سے درجنوں نایاب گدھیں مر گئیں۔
ننگر پارکر میں گدھ ریسٹورنٹ منصوبے کے مطابق وہاں بسنے والی گدھ کے ایک بڑے علاقے میں اس تنظیم کے رضاکار روزانہ آلودگی سے پاک گوشت فراہم کریں گے تاکہ گدھ کی نسل کی افزائش ہو سکے۔
منصور ڈاہری کےمطابق ڈیکلوفینک کی وجہ سے سندھ میں گدھ کی نسل ستانوے فیصد ختم ہوچکی ہے اور بقیہ گدھوں کے پیداواری صلاحیت کم ہوئی ہے۔ ان کی تنظیم کے ایک سروے کےمطابق گدھ کےزیادہ تر انڈے خراب ہوجاتے ہیں اور ان کے بچے پیدا کرنے کی موسم میں ایک آدھ انڈے سے بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ اس امر کی وجہ سے ان کی تعداد میں برسوں بعد بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا ہے۔