BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 26 January, 2009, 08:00 GMT 13:00 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ہزارہ رہنما ہلاک، ہنگامہ آرائی شروع
 

 
 
ہنگامہ آرائی
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور اور فرنٹیئر کور کو طلب کر لیا گیا ہے

کوئٹہ میں ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے چیئرمین کے قتل کے بعد شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ بعض مقامات پر فائرنگ کی گئی ہے جس سے نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ موٹر سائکل پر سوار نامعلوم افراد نے شہر کے مصروف ترین علاقے جناح روڈ پر فائرنگ کر کے ایچ ڈی پی کے چیئرمین حسین یوسفی کو ہلاک کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ فرقہ وارانہ تشدد کا واقعہ ہے یا ذاتی دشمنی کی بنیاد پر انہیں قتل کیا گیا ہے تاہم اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور اور فرنٹیئر کور کو طلب کر لیا گیا ہے۔

حسین علی یوسفی کے قتل کے بعد پارٹی کے کارکن اور رہنما سول ہسپتال پہنچ گئے جہاں مظاہرین نے ایمر جنسی وارڈ میں توڑ پھوڑ کی جس کے بعد سول ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے ڈاکٹر اور عملہ باہر نکل گیا۔

مظاہرین نے شہر میں مختلف مقامات پر فائرنگ کی گئی ہے اور موٹر سائیکل اور گاڑیوں کے علاوہ ایک بینک کو بھی آگ لگائی گئی ہے۔ دیگر عمارتوں پر پتھراؤ کیا گیا ہے جس سے عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔

سول ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اب تک پانچ زخمی لائے گئے ہیں جنھیں گولیاں لگی ہیں جبکہ توڑ پھوڑ سے چار افراد کو چوٹیں آئی ہیں۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے گئے ہیں اور فرنٹیئر یعنی نیم فوجی دستے کے اہلکاروں کو طلب کر لیا گیا ہے۔ اس وقت ایف سی کے اہلکار جناح روڈ اور دیگر حساس مقامات پر گشت کر رہے ہیں۔

جماعت کے رہنماؤں نے حسین علی یوسفی اور اس سے پہلے ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے قتل ہونے والے افراد کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک بارہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کوئٹہ میں کچھ روز پہلے بھی ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔ ان واقعات کے خلاف گزشتہ روز ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات سے لوگ نفسیاتی مریض بن رہے ہیں۔

اس ماہ کے پچیس دنوں میں مبینہ طور پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے حوالے سے آدھا درجن سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات انیس سو ننانوے سے شروع ہوئے جس کے بعد سنہ دو ہزار تین اور دو ہزار چار میں بڑے واقعات ہوئے جن میں امام بارگہ اثنا عشریہ سریاب روڈ پر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے پولیس کیڈٹس پر فائرنگ اور عاشورہ کے جلوس پر حملہ نمایاں ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
جعفر ایکسپریس پر فائرنگ
04 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد