BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 January, 2009, 04:23 GMT 09:23 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ہنگو: تین اہلکار ہلاک، تین اغواء
 

 
 
ہنگو
ہنگو کے نواح میں غیر سرکاری تنظیمیں اور اہلکاروں کی اغواء کی وارداتیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں
حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں تین اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا جبکہ تین اہلکاروں کو اغواء کرلیا گیا ہے۔

اس سے پہلے ہنگو شہر میں محرم الحرام میں امن او امان کے لیے منگل کو غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ناکے پر حملے کا واقعہ منگل کی رات شہر کے ایک نواحی علاقے دلن میں پیش آیا۔ ہنگو تھانہ کے ایک اہلکار نیک نواز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد نے رات کی تاریکی میں پولیس کے ناکے پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا جس سے ڈیوٹی پر موجود تین پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد تین پولیس اہلکاروں کو اغواء کر کے انہیں اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دلن گاؤں کے قریب یہ ناکہ حال ہی میں قائم کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ دلن ہنگو شہر کا ایک نواحی گاؤں ہے جہاں غیر سرکاری تنظیمیوں اور سرکاری اہلکاروں کی اغواء کی وارداتیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔

نقل مکانی
 ہنگو میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے علاقے میں تقریباً ساٹھ فیصد افراد نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوچکے ہیں
 

ہنگو میں کرفیو
ادھر حکام نے محرم الحرام کے دوران امن وامان برقرار رکھنے کےلیے ہنگو شہر میں غیر معینہ مدت تک کرفیو نافذ کرکے وہاں ہر قسم کے نقل و حرکت پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔

ہنگو کے ضلعی پولیس افسر سجاد خان نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ مقامی انتظامیہ نے علاقے میں امن برقرار رکھنے کے لیے منگل کی شام سے شہر میں غیر معینہ مدت تک کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ وہاں ہر قسم کے نقل حمل پر پابندی بھی عائد کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار گشت کر رہے ہیں اور تمام اہم مقامات پر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان امن کے پیش نظر اٹھایا جارہا ہے۔

تاہم پولیس اہلکار یہ واضح نہیں کرسکے کہ کرفیو کے نفاذ کے بعد شہر میں ماتمی جلوسوں پر بھی پاپندی ہوگی یا نہیں۔

ہنگو میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے علاقے میں تقریباً ساٹھ فیصد افراد نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوچکے ہیں۔

ضلع بھر میں تمام بازار، تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے پہلے ہی بند ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہلی مرتبہ تاجروں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شہر میں واقع اپنی دوکانوں سے سامان نکال کر گھروں اور دیگر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا ہے۔

 
 
ہنگو میں شریعت
طالبان کے بڑھتے قدم اور حکومت کی مشکلات
 
 
طالبان کا اثر و رسوخ
ہنگو: طالبان کے رسوخ اور جرائم میں اضافہ
 
 
ہنگو کا مسئلہ
جھگڑا زمین کے ٹکڑے کا لڑائی فرقے کی
 
 
حملہ اور دھماکہ
حب میں دھماکہ، ہنگو میں خودکش حملہ
 
 
اسی بارے میں
عاشورہ، ہنگو سے نقل مکانی
06 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد