|
عتیق، عدم اعتماد تحریک منظور
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے وزیر اعظم سردار عتیق احمد کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کر لی ہے اور
حکومت مخالف مسلم کانفرنس دھڑے کے رکن نئے قائد ایوان منتخب ہوئے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ کسی وزیر اعظم کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہٹایاگیا ہے۔ وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک حکومت مخالف مسلم کانفرنس دھڑے کے رکن راجہ فاروق حیدر خان نے ایوان میں پیش کی جس کے حق میں اکتیس اراکین نے ووٹ دیا۔ان میں حکومت مخالف مسلم کانفرنس کے دھڑے کے سترہ جبکہ حزب مخالف کی چار جماعتوں کے تمام چودہ اراکین شامل ہیں۔ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری شو آف ہیڈز کے ذریعے کی گئی۔ کشمیر کی انچاس رکنی قانون ساز اسمبلی میں اس وقت اڑتالیس اراکین ہیں لیکن آج کے اجلاس میں سردار عتیق احمد خان کے دو حمایتی اراکین غیر حاضر رہے۔ آئین کی رو سے وزیر اعظم کو سادہ اکثریت یعنی پچیس اراکین کی حمایت سے اپنے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ ایوان نےمسلم کانفرنس کے مخالف دھڑے کے رکن سردار محمد یعقوب خان کو قائد ایوان منتخب کر کیا۔ حکومت مخالف مسلم کانفرنس کے دھڑے، پاکستان پیپلز پارٹی، پیپلز مسلم لیگ ، متحدہ قومی موومنٹ اور جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے اراکین نے ووٹ دیئے۔ اس موقعہ پر نو منتخب قائد ایوان سردار محمد یعقوب خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر کی بھارت سے آزادی اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کی طرف بھر پور توجہ دوں گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ’ ہم سب مل کر کوشش کریں گے کہ لوگوں کو اچھی حکومت مہیا کریں اور کرپشن کا خاتمہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘ اس سے قبل عدم اعتماد کی تحریک کے محرک راجہ فاروق حید خان نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کرتے ہوئے اپنی تقریر میں سابقہ حکومت کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان پر بداعنوانی، اقربا پروری ، بد انتظامی ، آئین و قانون کی خلاف ورزی اور اختیارات کا ناجائز اسمتعمال کرنے کے الزامات لگائے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ سردار عتیق احمد خان نے کشمیر کے مسئلے پر مسلم کانفرنس کے موقف اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر کشمیر کو تنازعے کو حل کرنے کے لئے پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے چار نکاتی تجاویز کی حمایت کی۔ سردار عتیق احمد خان نے ان الزامات کو مسترد کیا اور عدم اعتماد کی تحریک کو اپنے خلاف پاکستان کی پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے ’ جارحیت‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کو اپنے مخالفین سے کوئی شکایت نہیں بلکہ پاکستان کی پیپلز پارٹی سے شکوہ ہے کیوں کہ ان کے کہنے کے مطابق اس کے پیچھے پاکستان کی پیپلز پارٹی کی حکومت کا ہاتھ ہے۔ نو منتخب قائد ایوان سردار یعقوب نے وزیر اعظم کا حلف لے لیا۔ |
اسی بارے میں
کشمیر میں مسلم کانفرنس تقسیم26 November, 2008 | پاکستان
دھاندلی کےالزامات، پیچھا نہیں چھوڑتے08 November, 2008 | پاکستان
’مشرف نے الیکشن میں دھاندلی کرائی‘26 August, 2008 | پاکستان
کشمیر: حکومت پر اقرباءپروری کا الزام09 June, 2008 | پاکستان
سردار عتیق امریکہ، یورپ کے دورے پر10 September, 2006 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||