|
تین عیسائی کارکن لاپتہ
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں کام کرنے والے تین پاکستانی عیسائی پاک افغان سرحد سے لاپتہ ہوگئے ہیں، اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے طور خم
سرحد عبور کرنے کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں ہے۔
چون سالہ روبن الیاس گزشتہ دو سالوں سے کابل میں تعمیراتی کام سے منسلک رہے ہیں۔کرسمس کے موقعے پر وہ دیگر تین ساتھیوں کےہمراہ جمعہ کو کراچی کے لیئے نکلے تھے کہ راستے میں لاپتہ ہوگئے۔ روبن کی بیگم ایمی کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح ساڑھے نو بجے روبن کا فون آیا تھا کہ وہ بارڈر کراس کر رہے ہیں، جس کے بعد سے لیکر اب تک کوئی رابطہ نہیں ہے، وہ ان کے موبائیل نمبر پر مسلسل رابطہ کرتے رہے مگر ٹیلیفون بند ہے، انہیں پشاور سے بذریعہ جہاز کراچی آنا تھا۔ روبن افغاسنتان میں زرمت کنسٹرکشن کمپنی میں بطور مینیجر فرائض سر انجام دے رہے تھے اس سے قبل وہ وینکو امتیاز سے منسلک تھے۔ مسز روبن کا کہنا ہے کہ انہیں کمپنی نے بتایا ہے کہ انہیں گاڑی سرحد پر چھوڑ کر گئی ہے اس کے بعد کا پتہ نہیں، تاہم ان کی تلاش
جاری ہے۔
روبن اس سے قبل عیدالفطر پر سات روز کی چھٹیوں پر گھر آئے تھے۔ ان کی بیگم نےبتایا کہ اس سے قبل انہوں نے کبھی یہ ذکر نہیں کیا کہ انہیں کسی قسم کی مشکل تھی یا خطرہ تھا، یا کسی وجہ سے وہاں سے نکلنا چاہ رہے تھے۔ روبن کی بہن روبی کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزرات خارجہ سے رابطہ کیا ہے حکام نے کہا کہ وہ معلومات حاصل کرکے بتائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جس اذیت سے گزر رہے ہیں وہ بیان نہیں کی جاسکتی۔ وکٹر سموئیل بھی لاپتہ افراد ہونے والوں میں شامل ہیں وہ گزشتہ پانچ سالوں سے کابل میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے بہنوئی گل اویس بھٹی کا کہنا ہے کہ وکٹر امریکی فوج اور پولیس کے لیئے بیرکیں بنانے والی کمپنی میں ملازم ہے۔ کراچی سے گریجوئیشن کرنے والے وکٹر شادی شدہ ہیں اور ان کی صرف ایک بیٹی ہے۔ وکٹر سموئیل کے بہنوئی اویس بھٹی کا کہنا ہے کہ کمپنی سے فون آیا تھا جنہوں نے کہا کہ وہ معلومات حاصل کر رہے ہیں ان کا نہ تو حکومت اور نہ ہی کسی اور سے رابطہ ہوا ہے۔ کرسمس کی تیاریوں میں مصروف خاندانوں کی خوشیوں پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اچانک ڈاکہ پڑ گیا ہے۔ روبن کی بیٹی ابیا کا کہنا ہے کہ انہیں ہر صورت ان کے والد واپس چاہئیں وہ ہرگز غیر ذمہ دار آدمی نہیں ہیں کہ کہاں پر رک جائیں اور رابطہ نہ کریں۔ وکٹر سموئیل کے بہنوئی کو خدشہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ انہیں طالبان نے اغواء کرلیا ہو مگر یہ بھی ممکن ہے کہ حادثے کا شکار ہوگئے ہوں مگر وہ یہ بھی مانتے ہیں اگر حادثہ ہوتا تو اس وقت پتہ چل جاتا۔ پاکستان کے وزرات خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے ان افراد کی گمشدگی سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اگر وہ پاکستان کی حدود سے لاپتہ ہیں تو یہ وزارت داخلہ کا معاملہ ہے۔ |
اسی بارے میں
’حکومت پر مزید دباؤ ڈالیں‘24 July, 2008 | پاکستان
لاپتہ چینی انجینئرز کی تلاش جاری31 August, 2008 | پاکستان
اسد کی زندگی کا ذمہ دار کون ہے؟21 October, 2008 | پاکستان
ایف آر بنوں: غیر ملکی خاتون لاپتہ12 November, 2008 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||