BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 December, 2008, 07:53 GMT 12:53 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
معزول جسٹس، ہائی کورٹ بار امیدوار
 

 
 
جسٹس صدیقی
جسٹس صدیقی معزولی کے دوران ہی اس سال تیرہ اکتوبر کو ریٹائر ہوگئے
لاہور ہائی کورٹ کے معزول جج جسٹس ریٹائرڈ ایم اے شاہد صدیقی لاہورہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی صدارت کا انتخاب لڑیں گے۔

اس بات کا فیصلہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان کی قیادت میں قائم ’پروفیشنل گروپ‘ کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں پروفیشنل گروپ نے جسٹس صدیقی کو متفقہ طور پر صدارتی امیدوار نامزد کیا۔

وکیل رہنما حامد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ جسٹس ایم اے شاہد صدیقی ان کے گروپ کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدارتی امیدوار ہونگے۔ ان کے بقول جسٹس صدیقی کی رضامندی کے بعد ان کی نامزدگی کا اعلان کیا گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات آئندہ سال اٹھائیس فروری کو ہونگے اور پنجاب بھر سے دس ہزار سے زائد ہائی کورٹ بار کے ارکان اپنی نئی قیادت کا انتخاب کریں گے۔

بار کی روایات
 جہاں بار کے عہدیداروں کے اعلٰی عدلیہ کے جج بننے کی روایت موجود ہیں وہاں سابق ججوں کے بار کے عہدیدار منتخب ہونے کی بھی مثالیں ہیں۔ ماضی میں ضیاء الحق کے دور میں پی سی او کا حلف نہ اٹھانے والے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس کے ایم اے صمدانی بھی لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں
 
جسٹس ایم اے شاہد صدیقی نے تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا اور اپنی معزولی کے دوران ہی اس سال تیرہ اکتوبر وہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئے تھے۔

پروفیشنل گروپ کے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کا نام ہائی کورٹ بار کے صدر کے عہدے کے تجویز کیا جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

اس موقع پر حامد خان نے کہا کہ جسٹس ایم اے شاہد صدیقی اس جدوجہد کی علامت ہیں جو ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس صدیقی نے آئین کی پاسداری اور اصول کی خاطر سمجھوتہ نہیں کیا۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخانات سالانہ انتخابات کے بعد ہی صدارتی امیدواروں کے ناموں پر بحث ہوجاتی ہے اور انتخابات سے تقریباً چھ سات ماہ پہلے ہی مختلف گروپوں کی طرف سے صدارتی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ اس سال وکلاء تحریک اور سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں علی احمد کرد کی کامیابی کی وجہ سے گروپ نے صدارتی امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا تھا۔

جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کے مدمقابل اٹارنی جنرل پاکستان سردار لطیف خان کھوسہ کی سربراہی میں قائم کھوسہ گروپ نے ابھی کسی امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔

جہاں بار کے عہدیداروں کے اعلٰی عدلیہ کے جج بننے کی روایت موجود ہیں وہاں سابق ججوں کے بار کے عہدیدار منتخب ہونے کی بھی مثالیں ہیں۔ ماضی میں ضیاء الحق کے دور میں پی سی او کا حلف نہ اٹھانے والے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس کے ایم اے صمدانی بھی لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں۔

اس کے علاوہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جج کے منصب سے مستعفی ہونے والے جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود سپریم کورٹ بار کےصدر چنے گئے اور جسٹس ریٹائرڈ رشید رضوی پاکستان بارکونسل رکن منتخب پر دوسری مرتبہ سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر کامیاب ہوئے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
اصل چیف جسٹس افتخار ہی: کرد
28 October, 2008 | پاکستان
چھ ججوں کی ملازمت میں توسیع
15 September, 2008 | پاکستان
وکلاء کےدھرنے پر لاٹھی چارج
04 September, 2008 | پاکستان
’دو چیف جسٹس نہیں ہوسکتے‘
27 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد