http://www.bbc.com/urdu/

Thursday, 20 November, 2008, 00:06 GMT 05:06 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’نہ بچوں کو پڑھانے کے پیسے، نہ علاج کے لیے‘

عزیز خان میونسپل کارپوریشن ٹاؤن تھری پشاور میں ٹیوب ویل آپریٹر ہیں۔ وہ گزشتہ چھ سال سے چار ہزار روپے تنخواہ پر کام کر رہے ہیں کیونکہ وہ عارضی ملازم ہیں۔

اس کے علاوہ اسے حکومت کی طرف سے کوئی الاؤنس نہیں مل رہا۔

پینتالیس سالہ عزیز خان نے حال ہی میں اپنے بڑے بیٹے کو معاشی مجبوریوں کی وجہ سے کالج سے نکال لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے وہ آجکل رشتہ داروں اور دوست احباب سے قرضہ لیکر گزارہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات تو معاشی حالات اتنے پریشان کردیتے ہیں کہ ذہنی حالت ٹھیک نہیں رہتی، خصوصاً اس وقت جب گھر میں بچے بیمار ہوں اور ہسپتال لے جانے کےلیے پیسے نہ ہوں۔

 اب تو آٹا، دالیں اور سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ میں کیا کروں، کس کے پاس اپنی فریاد لےکر جاؤں، کس کے سامنے ہاتھ پھیلاؤں، کیسے اپنے بیوی بچوں کو پالوں، ان کےلیے دال روٹی کہاں سے پیدا کروں آخر ؟
 
عزیز خان

عزیز خان کے چھ بچے ہیں جن میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ بڑا بیٹا پولیو کی وجہ سے ایک پاؤں سے معزور ہے جبکہ چھوٹا بیٹا اور دو بیٹیاں ایک سرکاری سکول میں پڑھتے ہیں۔

تمام بچوں کی عمریں پانچ سے اٹھارہ سال تک ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی سکول فیس بمشکل ادا کر رہے ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا نوید، جو ایک پاؤں سے معزور بھی ہے ، ایک مقامی کالج میں زیرتعلیم تھا۔ تاہم ایف اے کرنے کے بعد انہوں نے معاشی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے بیٹے کو سکول سے نکال لیا ہے۔ معزوری کی وجہ سے اسکا بیٹا محنت مزرودی بھی نہیں کرسکتا۔

سن دوہزار میں عزیز خان نے میونسپل کارپوریشن پشاور میں ٹیوب ویل آپریٹر کی حیثیت سے نوکری اختیار کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دوہزار ورپے ماہوار پر بھرتی ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ انکی بیوی حال ہی میں فوت ہوئی ہے، وہ کینسر کی بیماری میں مبتلا تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بیوی کے علاج پر ایک لاکھ روپے کے قریب رقم خرچ ہوئی ہے جو انہوں نے زمین بیچ کر حاصل کی۔

’اب میرے پاس زمین بھی نہیں رہی کیونکہ جو تھوڑی بہت تھی وہ سب بیچ چکا ہوں۔‘

پہلے عزیز خان ٹیوب ویل آپریٹری کے علاوہ ایک رہائشی کالونی میں رات کے وقت چوکیداری کا کام بھی کرتے تھے۔ لیکن کام بڑھ جانے اور گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے انہوں نے چوکیداری چھوڑ دی ہے۔

عزیز خان کہتے ہیں کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے وہ مالی مشکلات سے دوچار ہیں تاہم حالیہ چند سالوں میں منہگائی میں جس قدر اضافہ ہوا ہے اس کو دیکھتے ہوئے اب موجود تنخواہ میں گزارہ کسی بھی صورت ممکن نہیں۔

عزیز نے آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ کہا: ’ اب تو آٹا، دالیں اور سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ میں کیا کروں، کس کے پاس اپنی فریاد لےکر جاؤں، کس کے سامنے ہاتھ پھیلاؤں، کیسے اپنے بیوی بچوں کو پالوں، ان کےلیے دال روٹی کہاں سے پیدا کروں آخر ؟‘

انہوں نے کہا کہ ’حکومتیں تو تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن ہم غریبوں کی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔‘

’حکمرانوں کو ہماری کیا پراہ ہے وہ تو بڑی بڑی کوٹھیوں اور بنگلوں میں رہتے ہیں، انہیں غریب عوام اور ہماری محرومیوں اور مسائل کا کیا احساس ۔‘

انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن میں ایسے سینکڑوں ملازمین کام کرتے ہیں جن کی تنخوائیں چار ہزار یا اس سے بھی کم ہے۔ ’ روزانہ اس امید سے صبح کا آغاز کرتا ہوں کہ حالات بہتر ہوجائیں گے لیکن شاہد ایسا کوئی دن کی قسمت میں لکھا ہی نہیں۔‘