شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام باد پولیس نے نو اکتوبر کو پولیس لائئنز ہیڈ کوراٹر میں ہونے والے خودکش حملہ میں ملوث شخص کی تصویر جاری کر دی ہے اور اس بارے میں پولیس کو آگاہ کرنے والے شخص کو دس لاکھ روپے انعام بھی دیا جائے گا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے اپنی ابتدائی تفتیش مکمل کرلی ہے تاہم اس واقعہ کی مزید تفتیش کے حوالے سے مشتبہ شدت پسند کی تصویر جاری کی گئی ہے۔
اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی ٹیم نے اس مقدمہ میں کسی شخص کو بھی گرفتار نہیں کیا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مشتبہ شدت پسند نے پولیس لائئنز میں داخل ہونے کے لیے جو شناختی کارڈ دیا تھا وہ بھی جعلی نکلا۔
واضح رہے کہ نو اکتوبر کو نامعلوم شدت پسند نے بارود سے بھری گاڑی پولیس لائینز کی حدود میں واقع انسداد دہشت گردی سکواڈ کی عمارت کے ساتھ ٹکرا دی تھی جس سے مشتبہ شدت پسند ہلاک اور تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔
مشیر داخلہ رحمان ملک نے فرائض سے غفلت برتنے پر ایک ڈی ایس پی اور ایک انسپکٹر کو معطل کردیا تھا جبکہ چار پولیس ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔
اسلام آباد میریٹ ہوٹل پر ہونے والے خودکش حملے اور پولیس لائنز پر ہونے والے دہماکے کے بعد اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔