BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سندھ، اغواء برائے تاوان کا موسم
 

 
 
پولیس
سندھ پولیس کےایک اندازے کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کےدوران صوبہ بھر سے ایک درجن کے قریب لوگوں کو تاوان کےلیے اغوا کیا گیا
سندھ میں سردیوں کی لہر آنے کے ساتھ ساتھ اغواء برائے تاوان کے موسم بھی شروع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے سندھ کے ہندو کاروباری لوگ اور بعض مڈل کلاس افراد سخت پریشان ہوگئے ہیں۔

سندھ پولیس کےایک اندازے کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کےدوران صوبہ بھر سے ایک درجن کے قریب لوگوں کو تاوان کےلیے اغوا کیا گیا ہے۔

حالیہ دو چار دنوں کےدوران اغواء کیے گئے لوگوں میں ٹنڈو الہیار کے ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر جلیل بچانی بھی شامل ہیں جو حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی بیگم شمشاد بچانی کےدیور اور سابق رکن اسمبلی ستار بچانی کے بھائی ہیں۔ حیدرآباد کے قریب سندھ میں اغواء کی یہ ایسی واردات ہے جس کا اعلیٰ ترین سطح پر نوٹس لیا گیا ہے۔

حیدرآباد کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ثناءاللہ عباسی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر جلیل بچانی کی بازیابی کےلیے مختلف اضلاع میں پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور وہ ان کی جلد بازیابی کے لیے پرامید ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کے آبائی ضلع نوابشاہ اور مٹیاری ضلع میں پولیس نے اس سلسلے میں چھاپے مار کر بعض افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے مگر ان کی شناخت اور گرفتاری کوخفیہ رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب ہندوستان کے ایک مہمان شہری نرنجن کمار کو گھوٹکی ضلع کےحدود میں قومی شاہراہ سے اغواء کیا گیا ہے۔ نرنجن کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان سے آنے کے بعد خیرپور میں اپنے رشتہ داروں کے پاس ٹھہرے ہوئےتھے۔ دو روز قبل اپنے برادرِ نسبتی کی شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے گھوٹکی کی طرف جا رہے تھے کہ انہیں راستے سے ڈرائیور سمیت اغواء کر لیے گئے۔

گھوٹکی کے ضلعی پولیس افسر جاوید جسکانی کا کہنا ہے کہ نرنجن کو پنو عاقل اور گھوٹکی کے راستے سے اغواء کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی جلد بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

 ہندوستان کے ایک مہمان شہری نرنجن کمار کو گھوٹکی ضلع کےحدود میں قومی شاہراہ سے اغوا کیا گیا ہے۔ نرنجن کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان سے آنے کے بعد خیرپور میں اپنے رشتہ داروں کے پاس ٹھہرے ہوئےتھے۔ دو روز قبل اپنے برادرِ نسبتی کی شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے گھوٹکی کی طرف جا رہے تھے کہ راستے سے ڈرائیور سمیت اغوا کر لیے گئے۔
 

نرنجن کے اغواء کے ایک دن بعد ڈاکوؤں نے صحرائی علاقے مٹھی کے طالب علم اجے کمار کو تاوان کی رقم ملنے کےبعد رہا کردیا ہے۔ اجےکمار کو دس دن پہلے مہران انجنیئرنگ یونیورسٹی جامشورو سے اغواء کیا گیا تھا اور انہیں سیہون شہر کے قریب رہا کردیا گیا ہے۔

ایک مخبر پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ ہندو شہری ڈاکوؤں کے لیے آسان ترین ہدف ہوتے ہیں۔ ’ان کی بازیابی کے لیے پولیس پر بھی کم دباؤ آتا ہے اور نہ ہی کوئی قبیلے کا سردار زور دیتا ہے۔ ڈاکوؤں کومنہ مانگی تاوان کی رقم بروقت مل جاتی ہے۔‘

خیال رہے کہ ہندوؤں کی اکثریت کاروباری طبقے سے وابستہ ہیں۔

سندھ میں ڈاکوؤں کی طرف سے اغواء برائے تاوان کی تازہ لہر حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے آبائی ضلع لاڑکانہ تک پہنچ گئی ہے۔

لاڑکانہ سے ایک لیکچرر کے پانچ سالہ بیٹے عبدالقدیر کو دو دن پہلے اغوا کیا گیا ہے۔ بچے کےوالد عبدالرزاق نے بتایا ’میں سمجھ رہا تھا کہ میرا بیٹا محلے کی گلی میں کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوگیا ہے مگر مجھے ڈاکوؤں نے تاوان کی چٹھی بھیجی ہے اور فون کیا ہے کہ دس لاکھ تاوان کی رقم کابندوبست کرو۔‘

 ہندو شہری ڈاکوؤں کے لیے آسان ترین ہدف ہوتے ہیں۔ ان کی بازیابی کے لیے پولیس پر بھی کم دباؤ آتا ہے اور نہ ہی کوئی قبیلے کا سردار زور دیتا ہے۔ ڈاکوؤں کومنہ مانگی تاوان کی رقم بروقت مل جاتی ہے۔
 
پولیس اہلکار

دوسری جانب ڈاکؤں نے بینظیر بھٹو مرحومہ کے آبائی حلقے رتوڈیرو کی صرافہ بازار کےصدر سومر کھوکھر کواغواء کرلیا ہے۔ سومر کے بھائی ذوالفقار نے بتایا ہے کہ ان کے بھائی مقامی لطیف پارک میں سیر کر رہے تھے کہ چھ ڈاکوؤں نےانہیں اغوا کرلیا۔ بتایا گیا ہے کہ سومر کا تعلق پیپلزپارٹی کی مخالف ممتاز بھٹو کی جماعت سندھ نیشنل فرنٹ سے ہے۔

سندھ پولیس کو حساس اداروں کی جانب سے دی گئی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں ڈاکوؤں کی پشت پناہی مقامی وڈیرے اور قبیلے کے سردار کر رہے ہیں۔ ایک سینیئر پولیس افسر کےمطابق سندھ میں کسی وڈیرے اور سردار کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا اور اس کی وجہ سیاسی مفاہمت یا مصلحت ہے۔

پولیس افسر کے مطابق سندھ میں ڈاکوؤں کی پشت پناہی کرنے کے الزام میں ایسے وڈیرے بھی شامل ہیں جو سابقہ حکومت کا حصہ تھے مگر ابھی ان کی سیاسی وفاداری کا رخ پیپلزپارٹی کی جانب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت ڈاکوؤں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف کسی ٹھوس آپریشن شروع کرنے پر غور نہیں کر رہی۔

 ڈاکو میری نظروں سے چھپ نہیں سکیں گے کیونکہ میں خود گیارہ سال روپوش رہ چکا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ روپوشی کےدوران کس کا ٹھکانہ کہاں ہوتا ہے۔
 
ذوالفقار مرزا

وزیرداخلہ سندھ ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے ’ڈاکو میری نظروں سے چھپ نہیں سکیں گے کیونکہ میں خود گیارہ سال روپوش رہ چکا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ روپوشی کےدوران کس کا ٹھکانہ کہاں ہوتا ہے۔‘

ذوالفقار مرزا نے سکھر سرکٹ ہاؤس میں گزشتہ دنوں کہا تھا کہ وہ ڈاکوؤں کی پشت پناہی کرنے والوں کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ سندھ حکومت کی موجودہ کابینہ میں ایک وزیر ایسے بھی شامل ہیں جو خود اغواء ہوگئے تھے۔ تعلیم کےصوبائی وزیر کو کراچی سے دادو اہل خانہ سمیت سفر کرتے ہوئے ڈاکوؤں نے اغواء کر لیا تھا۔ بعد میں انہوں نے اپنے اغواء کا الزام اپنے سیاسی مخالف وزیراعلٰی لیاقت جتوئی پر لگایا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد