|
’کشمیر حق خود ارادیت چاہتے ہیں‘
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پارلیمان کی کشمیر کمیٹی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے ریاستی انتخابات کے بارے میں کہا ہے کہ وہاں
کے لوگ انتخابات نہیں حق خود ارادیت چاہتے ہیں جبکہ حکومت پاکستان نے ماضی کے برعکس خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور بھارت کے زیر
انتظام کشمیر میں انتخابات کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چوبیس دسمبر تک سات مرحلوں میں پولنگ ہو گی اور پہلے مرحلے کی سترہ نومبر کو دس نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔
مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں کشمیر کمیٹی کا گیارہ رکنی وفد منگل کو اپنے پہلے تین روز دورے پر مظفرآباد پہنچا تھا اور جمعہ کو یہ وفد واپس اسلام آباد چلا گیا۔ ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ سے لے کر اعلیٰ ترین قیادت کی طرف سے انتخابات کی مخالفت میں بیانات دیے گئے اور ان انتخابات کو مضحکہ خیز اور ڈھونگ قرار دیا جاتا رہا اور بھارت یہ الزام لگاتا رہا کہ پاکستان انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے۔ اکتوبر سن دو ہزار دو میں ہونے والے ریاست کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے تین ماہ قبل پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پاکستان کی یوم آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو مسترد کیا تھا۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دو ہزار دو کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران بدترین تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان انتخابات میں پچھتر سیاست دانوں اور سیاسی کارکنوں سمیت آٹھ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں
کشمیر الیکشن : کس کی جیت؟19 November, 2008 | انڈیا
کشمیر میں 55 فیصد پولنگ17 November, 2008 | انڈیا
کشمیر میں پہلےمرحلے کی پولنگ شروع17 November, 2008 | انڈیا
’بھارت سے کشمیر کا الحاق حتمی‘17 November, 2008 | انڈیا
کشمیریوں نے ووٹ کیوں ڈالا ؟ 17 November, 2008 | انڈیا
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||