BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 21 November, 2008, 02:12 GMT 07:12 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’کشمیر حق خود ارادیت چاہتے ہیں‘
 

 
 
مولانا فضل الرحمان
کشمیر کمیٹی اپنے پہلے دورے پر مظفرآباد پہنچی تھی
پاکستان میں پارلیمان کی کشمیر کمیٹی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے ریاستی انتخابات کے بارے میں کہا ہے کہ وہاں کے لوگ انتخابات نہیں حق خود ارادیت چاہتے ہیں جبکہ حکومت پاکستان نے ماضی کے برعکس خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چوبیس دسمبر تک سات مرحلوں میں پولنگ ہو گی اور پہلے مرحلے کی سترہ نومبر کو دس نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

ماضی کی روایت
 ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ سے لے کر اعلیٰ ترین قیادت کی طرف سے انتخابات کی مخالفت میں بیانات دیے گئے اور ان انتخابات کو مضحکہ خیز اور ڈھونگ قرار دیا جاتا رہا اور بھارت یہ الزام لگاتا رہا کہ پاکستان انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے
 
پاکستان کی قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جمعرات کو مظفرآباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا بھارت کے زیر انتظام کشمیر لوگوں کا مطالبہ انتخاب نہیں بلکہ حق خوارادیت ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں کشمیر کمیٹی کا گیارہ رکنی وفد منگل کو اپنے پہلے تین روز دورے پر مظفرآباد پہنچا تھا اور جمعہ کو یہ وفد واپس اسلام آباد چلا گیا۔

ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ سے لے کر اعلیٰ ترین قیادت کی طرف سے انتخابات کی مخالفت میں بیانات دیے گئے اور ان انتخابات کو مضحکہ خیز اور ڈھونگ قرار دیا جاتا رہا اور بھارت یہ الزام لگاتا رہا کہ پاکستان انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے۔

اکتوبر سن دو ہزار دو میں ہونے والے ریاست کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے تین ماہ قبل پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پاکستان کی یوم آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو مسترد کیا تھا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دو ہزار دو کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران بدترین تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان انتخابات میں پچھتر سیاست دانوں اور سیاسی کارکنوں سمیت آٹھ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 
 
اسی بارے میں
کشمیر الیکشن : کس کی جیت؟
19 November, 2008 | انڈیا
کشمیر میں 55 فیصد پولنگ
17 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد