|
رینجرز کا ایک اور کالج پر ’قبضہ‘
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےصوبہ سندھ میں امن و امان قائم رکھنے کےلیے تعینات پاکستان رینجرز کے ایک ونگ نے شکارپور کے نئے تعمیر شدہ ڈگری کالج
مدئجی کی عمارت پر قبضہ کر لیا ہے اور پروفیسروں کی تنظیم نےاس امر کی مخالفت کی ہے۔
سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن (سپلا) کے ایک رہنماء کے مطابق ڈگری کالج مدئجی میں ابھی لیبارٹری اور لائبریری قائم کرنی ہے مگر شہباز رینجرز کےدستوں نے کلاس رومز کو اپنے رہائشی کیمپ میں تبدیل کر لیا ہے۔ مدئجی ڈگری کالج شکارپور کا دوسرا بڑا تعلیمی ادارہ ہے جس کی تعمیر گزشتہ سال مکمل ہوئی ہے۔ اور اس کالج میں تدریسی عمل کچھ ہی عرصہ قبل شروع ہوا ہے۔ سندھ میں کالجوں کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رفیق صدیقی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صوبے کےدوسرے شہروں کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی کالج عمارتیں بھی رینجرز کےزیر استعمال ہیں۔ رینجرز ان عمارتوں میں رہنے کا نہ تو کرایہ دیتے ہیں نہ فون کے، نہ پانی اور نہ بجلی کا بل ادا کرتےہیں۔ تمام یوٹیلٹی بلز ان کاادارہ ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے تین سو انچاس کالجوں میں سے تین شہروں میں کالجوں کی عمارتیں رینجرز کے زیر استعمال ہیں۔ آزاد ذرائع کا کہنا ہے ایسے کالجوں کی تعداد آدھے درجن سے زیادہ ہے۔ کالجز کے ڈی جی رفیق صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ رینجرز کے انخلاء پر بات کرنے کے مجاز نہیں اور اس سلسلے میں حکومت سندھ ہی کوئی فیصلہ
کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر رینجرز امن و امان برقرار رکھتی ہے تو ان کی موجودگی بہتر ہے۔
دوسری جانب پاکستان رینجرز سندھ کے ایک ترجمان میجر اورنگزیب نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رینجرز کسی بھی علاقے میں مقامی ضلعی حکومت اور سندھ حکومت کی اجازت سے تعینات کی جاتی ہے اس لیے بہتر ہے کہ رہائش اور دیگر معاملات پر ان سے بات کی جائے۔ میجر اورنگزیب نے مدئجی کالج پر مبینہ رینجرز قبضے کےمعاملے پر بات کرنے سے معذرت کی ہے۔ سندھ میں کالجی اساتذہ کی تنظیم سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوس ایشن کے ایک سینیئر رہنماء لیاقت عزیز کا کہنا ہے کہ کالجوں اور ہوسٹلوں پر رینجرز کا قبضہ عارضی نہیں مستقل بن گیا ہے اور ان کی موجودگی کی وجہ سےتعلیمی ماحول پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اور دور دراز دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی رہائش اور تعلیم بری طرح سے متاثر ہو رہی ہے۔ لیاقت عزیز کےمطابق رینجرز نے حیدرآباد کالی پل کالج کے ہوسٹل، عمر کوٹ کالج کے ہوسٹل اور حیدرآباد کے وسط میں مسلم سائنس کالج کے ہوسٹل پر برسوں سے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ان کےمطابق حیدرآباد میں مسلم سائنس اور نورمحمد ہائی سکول کے ہوسٹل کو رینجرز نے اپنے کاروباری مقاصد کےلیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے اور ہوسٹل کی چار دیواری توڑ کر ان کمروں کو کرایہ پر دے دیا گیا ہے جو سول ہسپتال روڈ کے قریب ہیں۔ سول ہسپتال کےقریب رینجرز نے ہوسٹل کے جو کمرے کرایے پر دیئے ہیں ان میں ایک کینٹین، ایک میڈیکل سٹور اور کولڈ ڈرنک کارنر کھول دیا گیا ہے۔ سپلا کے لیاقت عزیز کےمطابق رینجرز نے ایک دکان بلڈر کو اپنا دفتر بنانے کےلیے بھی کرائے پر دے دی ہے۔ ان کےمطابق سندھ میں دوسرے محکموں کی عمارتیں اور دفتر بھی موجود ہیں مگر تعلیمی اداروں کو آسان ہدف سمجھ کر قبضہ کیا جا رہا ہے۔
پاکستان رینجرز ایک سرحدی فورس ہے جس کے ذمے سرحدوں کی حفاظت، سمگلنگ کی روک تھام اور غیرقانونی لوگوں کی آمد و رفت روکنا ہے مگر حکومت سندھ کی درخواست پر نوے کے ابتدائی سالوں میں رینجرز کو امن وامان برقرار رکھنے کے لیے صوبے میں طلب کیا گیا تھا۔ عارضی طور پر طلب کی گئی رینجرز نے سندھ کے کئی شہروں میں تعلیمی اور دیگر محکموں کی عمارتوں پر قبضہ کر لیا رہائش اختیار کی اور بعض جگہوں پر اپنے کاربار شروع کر دیئے ہیں۔ رینجرز کے قیام میں ہر سال بجٹ کے مہینے جون کے دوران صوبائی حکومت توسیع کر دیتی ہے۔ شہباز رینجرز کی ایک اضافی ونگ کو آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کے احکامات پر سکھر لاڑکانہ سڑک کو ڈاکوؤں اور لٹیروں سے محفوظ بنانے کےلیے تعینات کیا گیا ہے جس نے اپنا کیمپ مدئجی کالج میں قائم کردیا ہے۔ کالجی اساتذہ کی تنظیم سپلا کے مطابق انہوں حکومت سندھ سے تازہ مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں سے رینجرز کو باہر نکالا جائے۔ ان کے مطابق اگر رینجرز نے کالج اور ہوسٹل سے قبضہ ختم نہ کیا تو طلبا اور اساتذہ مل کر رینجرز کے قبضوں کے خلاف مظاہروں کا سلسہ شروع کر دیں گے۔ |
اسی بارے میں
شہریوں پر ہند پاک مفاہمت16 October, 2008 | پاکستان
برجیوں کی تعمیر جاری رہیگی: بھارت13 October, 2008 | پاکستان
پاکستان: حراست و تشدد کے مراکز05 June, 2008 | پاکستان
بھارت سے پاکستانی لڑکے واپس18 April, 2008 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||