|
’ کردار کشی سے مسائل پیدا ہونگے‘
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب میں پیپلز پارٹی کے سنئیر وزیر راجہ ریاض نے کہا ہے کہ گورنر پنجاب کی کردار کشی پر مبنی بیانات سے پنجاب میں پیپلز پارٹی
اور مسلم لیگ نون کے اتحاد کے لیے مسائل پیداہونگے اس لیے مسلم لیگی رہنما ایسی باتوں سے اجتناب کریں۔
یہ بات انہوں نے پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنماؤں کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر پاکستان آصف زرداری کی ہدایت کے مطابق صوبے میں اتحاد برقرار رکھنے کے خواہشمند ہیں اور پنجاب حکومت میں موجود رہیں گے۔ راجہ ریاض نے کہا کہ وہ مسلم لیگ نون کے صدر اور پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کی چین کےدورے سے واپسی پر صوبائی وزیر قانون کے بیانات پر احتجاج کریں گے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے میڈیا کو گورنر پنجاب اور ان کے اہلخانہ کی کسی پارٹی میں شرکت پر مبنی چند تصویریں دکھا کر کہا تھا وہ غیر اسلامی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ مسلم لیگی وزیر نے دعوٰی کیا تھا کہ یہ تصاویر انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی گئی ہیں اور ان کے بقول ان تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گورنر ہاؤس میں شراب کی محلفیں سجائی جارہی ہیں۔ مسلم لیگی وزیر نےگورنر پنجاب کو سابق صدر مشرف کی باقیات قرار دیا اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی بطور گورنر تعیناتی پر نظر ثانی کرے۔مسلم لیگ نون کے رہنما اس سے پہلے بھی متعدد بار گورنر پنجاب کی تعیناتی پر اعتراض کرچکے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے وزیر قانون نے کہا کہ وہ متعدد بار مطالبہ کرچکے ہیں کہ چونکہ مسلم لیگ نون وفاقی کابینہ سے الگ ہوچکی ہے اس لیے پنجاب میں پیپلز پارٹی بھی صوبائی کابینہ سے الگ ہوجائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر اور مسلم لیگ کے وزیر قانون کے حالیہ بیانات صوبے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی مخلوط حکومت میں جاری کشیدگی کا نتیجہ قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے حال میں حکومت پنجاب کو چند خطوط تحریر کیے ہیں جن میں صوبائی حکومت کے بعض اقدامات پرتنقید کی گئی ہے۔ گورنر پنجاب نے ان خطوط میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت آئین کے مطابق کام نہیں کررہی،آٹھ ماہ گذر جانے کے باوجود کابینہ مکمل نہیں کی جاسکی اور آئینی تقاضے کے مطابق کابینہ کا اجلاس ہر ہفتے ہونا چاہیے لیکن کئی ماہ سے نہیں ہوا اور حکومت پنجاب کو وزراء کی بجائے سیکرٹریوں کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ ایک خط میں گورنر نے پنجاب کے وزیر اعلی سے شکوہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے اقدامات سے انہیں آگاہ نہیں رکھ رہی۔گورنر پنجاب نے کہا کہ وکلاء نے ہڑتال کےدوران عدالتوں کی تالہ بندی کی لیکن حکومت پنجاب نے اسے روکنے کے اقدامات نہیں کیے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے سنئیر وزیر نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے ان خطوط کی حمائت کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے ایسا کرکے اپنا آئینی حق استعمال کیا ہے۔ راجہ ریاض نے کہا کہ گورنر پنجاب اس طرح کے خطوط لکھنے کے لیے پارٹی سے مشاورت کے پابند نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ مسلم لیگ نون پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ گورنروفاق کے نمائندے ہیں اور انہیں پیپلز پارٹی پنجاب اور پارلیمانی پارٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا پارٹی کو یہ بھی یاد ہے کہ اسی پارٹی کی وجہ سے سلمان تاثیر کو درخت سے الٹا لٹکا کر ماراگیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے سنئیر وزیر نے کہا کہ آٹھ ماہ کی مخلوط حکومت کے دوران انہیں بہت سے شکایات رہی ہیں لیکن اب مسلم لیگ نون کی قیادت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ یہ شکوے دور کردئیے جائیں گے اور اسی سلسلے میں حکومت میں پاور شئیرنگ کا فارمولا بھی طے پاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو تین ماہ میں یہ واضح ہوجائے گا کہ شراکت اقتدار کے طے پائے جانے والے فارمولے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔ |
اسی بارے میں
اتحاد رہنا ہے یا نہیں ، فیصلہ آج25 August, 2008 | پاکستان
نواز لیگ حکمران اتحاد سے علیحدہ 25 August, 2008 | پاکستان
مسلم لیگ نون کی کابینہ میں واپسی08 August, 2008 | پاکستان
صدر کا مواخذہ ہو گا: خواجہ آصف05 August, 2008 | پاکستان
حکمران اتحاد اجلاس، فیصلے ممکن نہیں22 July, 2008 | پاکستان
آئینی پیکج: نون کی سفارشات تیار06 June, 2008 | پاکستان
کراچی: پی ایم ایل ن کے رہنما ہلاک 23 May, 2008 | پاکستان
مرکز: وزارتوں کی تقسیم پر اتفاق18 March, 2008 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||