|
سندھ ہائی کورٹ، ملاقات کی استدعا
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں قید القاعدہ کے رہنما خالد شیخ محمد کی بہن نے سندھ ہائی کورٹ
سے درخواست کی ہے کہ حکومت پاکستان امریکی قید خانے میں خالد شیخ محمد سے ان کی ملاقات کرائے۔
یہ استدعا بدھ کو خالد شیخ محمد کی امریکہ منتقلی کے خلاف ان کی بہن مریم کی جانب سے داخل آئینی درخواست کی سماعت کے موقع پر ان کے وکیل قادر جتوئی نے کی۔ خالد شیخ محمد کے ورثاء کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ سماعت کے موقع پر قادر جتوئی نے عدالت سے کہا کہ خالد شیخ محمد کے خطوط عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کے ذریعے ان کے ورثاء کو ملتے ہیں لیکن انہیں ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ اس لیے عدالت وفاقی حکومت کو ہدایت کرے کہ وہ ملاقات کے انتظامات کرائے۔ درخواست کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی نمائندگی ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رضا نقوی نے کی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بی بی سی کو بتایا ’اس سلسلے میں درخواست گزار نے کوئی درخواست داخل نہیں کی۔ خالد شیخ محمد سے ملاقات کے سلسلے میں عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ ملاقات کرنے کے لیے یا تو ورثاء متعلقہ حکام کو درخواست دیں یا پھر عدالت میں اس سلسلے میں باقاعدہ کوئی درخواست دیں۔‘ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انہوں نے اس درخواست پر عدالت کے روبرو کہا کہ اگر درخواست گذار قانون کے مطابق خالد شیخ محمد سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو اس پر حکومت پاکستان کا ہمیشہ سے انسانی حقوق کے معاملے پر یہ مؤقف رہا ہے کہ قانونی طور پر جو بھی ریلیف ممکن ہے وہ یقیناً ان کو دیا جائے گا۔ قادر جتوئی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس سلسلے میں عدالت میں باقاعدہ درخواست جمع کرائیں گے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے آئینی درخواست پر حکومت کا جواب داخل کرنے کے لیے عدالت سے مزید وقت مانگا جس پر عدالت نے درخواست کی سماعت سولہ دسمبر تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ درخواست گزار مریم نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ خالد شیخ محمد پاکستانی شہری ہیں لیکن انہیں پاکستانی حکام نے حراست میں لے کر امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ حکومت پاکستان کو اس بات کی وضاحت کرنے کی ہدایت کرے کہ انہیں کس قانون کے تحت پاکستان سے امریکہ منتقل کیا گیا ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت حکومت کو ہدایت کرے کہ وہ خالد شیخ کو ملک واپس بلائے اور اگر ان پر الزامات ہیں تو ان پر ملکی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور اگر پاکستان حکومت ایسا نہیں کرسکتی ہے تو اقوام متحدہ سے مدد حاصل کی جائے۔ |
اسی بارے میں
’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید ہیں‘23 July, 2008 | پاکستان
’بس اب لاپتہ افراد کی رہائی چاہیئے‘26 September, 2008 | پاکستان
لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے مظاہرہ29 October, 2008 | پاکستان
حکومت کو مزید اقدامات کی ہدایت15 October, 2008 | پاکستان
ڈاکٹرعافیہ، بیٹا پاکستان کے حوالے15 September, 2008 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||