|
ایدھی سینٹر، مائیں بچے واپس لے گئیں
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی ایدھی سینٹر سے چوبیس گھنٹے کے اندر ہی تینوں خواتین اپنے آٹھ بچے واپس لے گئی ہیں۔ یہ بچے ساری رات روتے رہے اور ان کی
ماؤں کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو تعلیم کے لیے چھوڑ گئی تھیں مگر ٹی وی چینلز پر انہیں دکھا کر ان کی عزت اور غربت کا مذاق اڑایا
گیا گیا ہے۔
بدھ کی صبح دس بجے کے قریب تینوں خواتین رخسانہ، یاسمین اور گل تاج بی بی ایدھی سینٹر آئیں اور بچوں کو واپس لینے کی خواہش ظاہر کی۔ عبدالستار ایدھی کا کہنا ہے کہ پڑوسیوں کے دباؤ کی وجہ سے وہ بچے واپس لے گئی ہیں مگر وہ دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آنے والے چند روز میں دوبارہ ان کو سینٹر میں چھوڑ کر جائیں گی۔ عبدالستار ایدھی کا کہنا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ’
یہ تینوں خاندان شہر کے علاقے کورنگی گلزار کالونی کے رہائشی ہیں۔ تینوں خواتین میں رخسانہ اور گل تاج بی بی میں بھابھی اور نند کا رشتہ ہے جبکہ یاسمین ان کی پڑوسی ہیں۔ رخسانہ کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو مدرسے میں چھوڑنے گئے تھے اور رات کو جب گھر آئے تو ان کو ٹی وی پر دکھا دیا۔ جس کو وہ پسند نہیں کرتے ہیں اور اسی لیے صبح کو واپس لینے آ گئیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت اور مہنگائی تو ہے، جیسے دوسرے بچے پڑھ رہے ہیں یہ بھی پڑھ لیں گے۔ ان کو دیگر لاوارث بچوں کو دکھانا چاہئیے تھا، ہمارے بچوں کو نہیں دکھانا چاہیئے تھا۔ اس سے ہمیں دکھ ہوا ہے۔ اگر مدد کرنی بھی تھی تو گھر بیٹھے کرتے یوں ہمیں مشہور نہیں کرتے۔‘ عبدالستار ایدھی کا کہنا تھا کہ میڈیا میں معاملہ آنے پر وہ معذرت کرتے ہیں مگر ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ان کا کام ہے۔ ایدھی رضاکار خواتین کا کہنا تھا کہ بڑے بچے ساری رات روتے رہے کہ ہمیں اپنی امی ابو کے پاس جانا ہے، جس کے باعث وہ سو نہیں پائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خواتین پر تشدد کیا گیا ہے، رات کو انہوں نے اپنے گھروں میں یہ کہا تھا کہ وہ بچوں کو مدرسہ میں چھوڑ آئی ہیں مگر جب ٹیلیویزن پر دکھایا گیا تو پھر ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر اب کہہ رہے ہیں کہ خاندان میں عزت جائے گی ہم بچوں کو بھوکا رکھیں گے مگر وہاں نہیں چھوڑ سکتے اب اگر ہم نے بچوں کو یہاں چھوڑا تو شوہر جان سے مارڈالیں گے۔ ایدھی کی رضاکار خواتین کا کہنا تھا کہ بڑے بچے ساری رات روتے رہے کہ انہیں اپنے امی ابو کے پاس جانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خواتین پر تشدد کیا گیا ہے۔ ’رات کو انہوں نے اپنے گھروں میں یہ کہا تھا کہ وہ بچوں کو مدرسہ میں چھوڑ آئی ہیں مگر جب ٹیلیویژن پر دکھایا گیا تو ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر اب کہہ رہے ہیں کہ خاندان میں عزت جائے گی۔ ان کے بقول عورتوں نے کہا کہ وہ بچوں کو بھوکا رکھیں گے مگر ایدھی سینٹر نہیں چھوڑ سکتے ورنہ شوہر جان سے مارڈالیں گے۔ رضاکاروں کے مطابق ایدھی نے ایک ایک لاکھ رپے دیئے ہیں اور کہا کہ اگر مزید مدد کی ضرورت ہوئی تو وہ بھی کریں گے۔ رضاکاروں کے مطابق ایدھی نے ایک ایک لاکھ رپے دیئے ہیں اور کہا کہ اگر مزید مدد کی ضرورت ہوئی تو وہ بھی کریں گے۔ رخسانہ اپنے شوہر بہادر خان کے ساتھ دو کمروں کے گھر میں رہتی ہیں جس میں ریفریجریٹر، رنگین ٹی وی اور واشنگ مشین بھی موجود ہیں۔ بہادر خان فوج سے انیس سو ننانوے میں ریٹائر ہوئے تھے جس کے بعد انہیں بائیس سو روپئے ماہانہ پینشن ملتی ہے جبکہ ان کی بیوی ایک مدرسے میں پڑھاتی ہیں۔ بہادر خان نیوروموٹر کے مرض میں مبتلا ہیں اور گزشتہ کافی عرصے سے بستر سے نہیں اٹھ سکتے۔ اس خاندان کی مشکلات میں چار ماہ قبل اس وقت اضافہ ہوا جب بہادر خان کے بہنوئی اپنی بیوی اور تین بچوں کو ان کے پاس چھوڑ کر چلے گئے۔ بہادر خان کہتے ہیں کہ انہوں نے بچے مدرسے میں داخلے کے لیے بھیجے تھے مگر ایدھی سینٹر پہنچ گئے اور انہوں نے میڈیا میں اچھال کر ان کی بےعزتی کردی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا انہیں دکھ ہے کیونکہ اگر وہ مدد کرتے تو ایک ہاتھ کا دوسرے ہاتھ کو پتہ نہیں چلنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ رات کو ٹی وی پر دیکھ کر معلوم ہوا۔ ’میری بیوی پڑھی لکھی تو نہیں ہے اگر پڑھی لکھی ہوتی تو کبھی ایسا کام نہیں کرتی۔‘ گل تاج بی بی کا کہنا ہے کہ ان کی تو رات ہی نہیں گذری۔ بچوں کو جب ٹی وی پر روتے دیکھا تو بس وقت ہی نہیں گذر رہا تھا۔ وہ مہنگائی کی وجہ سے وہاں چھوڑ آئیں تھیں تاکہ دیگر بچوں کی طرح وہ بھی پڑھیں اور بڑے ہوکر ان کا مستقبل اچھا ہو۔ اس محلے میں محمد صابر مستری بھی رہتے ہیں جو بچوں کو ایدھی سینٹر میں چھوڑ آنے پر بیوی سے خفا ہیں۔ ان کے بیٹے محمد بابر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنا تھا کہ وہاں دارلعلوم اچھا ہے۔ ’چھوٹے بہن بھائی پڑھ لیں گے مگر وہ میڈیا میں لے آئے۔ رات کو جب گیارہ بجے والد کو پتہ چلا اور جیو ٹی وی چینل والے آئے تو والد ان پر شدید ناراض ہوئے۔ مسائل ہیں لیکن پہلے بھی والد کھلا پلا رہے تھے اور اب بھی وہ یہی کریں گے۔‘ پانچ سالہ وردہ اب واپس اپنے گھر پہنچ چکی ہیں اور یہ ہی سمجھ رہی ہیں کہ اس کی ماں اسے اسکول چھوڑ کر آئی تھیں جہاں دیگر بہت سارے بچے ہیں مگر اچانک وہ اسے واپس لینے آ گئیں۔ |
اسی بارے میں
ایدھی کے ہنگو جانے پر پابندی16 July, 2008 | پاکستان
بھوکوں کے لیے ایدھی کامشن 18 June, 2008 | پاکستان
بلوچستان: ’بھیک‘ بھوک منصوبہ شروع22 June, 2008 | پاکستان
ایدھی کی سفری دستاویز واپس31 January, 2008 | پاکستان
’آخری گاڑی تک سروس چلے گی‘01 January, 2008 | پاکستان
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||