|
مہنگائی سے مجبور سرکاری ملازم
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں رہائش پذیر اعلیٰ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی ایک بڑی تعداد ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ
سے فارغ اوقات میں دوکانوں میں کام کرنے یا ٹیکسی گاڑی چلانے پر مجبور ہے۔
ان میں سے ایک خالد محبوب ہیں جو وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کام کرتے ہیں اور مہنگائی میں ہونے والے مسلسل اضافے کے باعث دفتر سے چھٹی کے بعد رات گئے تک ٹیکسی چلاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ملنے والی تنخواہ سے گزارہ مشکل سے ہوتا ہے تو چار چھوٹے بچوں کی پرورش کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔ جب کہ افسران کو ادارے کی طرف سے بجلی اور رہائش سمیت دیگر سہولیات مفت میسر ہوتی ہیں لیکن میرے جیسے نچلے گریڈ میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے بجلی کا بل ادا کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ خالد محبوب کے مطابق مہنگائی کی وجہ سے تقریباً تمام ادنیٰ اور درمیانے درجے کے ملازمین پریشان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے دیگر ساتھی یا تو ٹیکسی چلاتے ہیں یا دفتر سے فارغ ہونے کے بعد کسی دوکان پر کام کرتے نظر آتے ہیں جبکہ حکومت ہر سال تنخواہ میں صرف دس فیصد تک اضافہ کرتی ہے لیکن دوسری طرف مہنگائی میں دوگنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ واضع رہے کہ پاکستان کے سٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں\ اضافے کی شرح پینتئس فیصد تک ہے۔
سرکاری ملازم محمد صدیق نے اپنے محکمے کا نام صغیہ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اچھی پوسٹ پر کام کرتے ہیں تاہم مہنگائی کی وجہ سے گھر کا کرایہ اور کھانے پینے کا سامان پورا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بچوں کو تعلیم کے لیے سکول نہیں بھیجا جا سکتا ہے۔ محمد صدیق کے مطابق چار سال پہلے وہ دفتر سے چھٹی کے بعد آلو کے چپیس فروخت کرتے تھے اور دو سال پہلے انہوں نے ٹیکسی کرائے پر لے کر چلانی شروع کی ہے۔ جس کی وجہ سے تقریباً سرکاری تنخواہ کے برابر پیسے کما لیتے ہیں۔ وزارت دفاع میں کام کرنے والے ایک ملازم نے نام بتائے بغیر کہا کہ ٹیکسی چلانے یا کوئی اور محنت مزدوری کیے بغیر آج کل کے دور میں گزارہ کرنا انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند سال پہلے تک سرکاری ملازمت ملنے کے بعد لوگوں کو کم از کم معاشی تحفظ تو مل جاتا تھا لیکن آج حال یہ کہ دفتر سے چھٹی کے بعد ملازم ایک کی بجائے دو دو جگہ کام کرتے ہیں تب جا کر کہیں گھر والوں کا گزر بسر ممکن ہوتا ہے۔ اور اگر حالات اسی طرح رہے تو لگتا ہے کہ گزر بسر کرنے کے لیے بیوی بچوں کو بھی پڑھائی لکھائی اور گھر کے کام چھوڑ کر محنت مزدوری کرنا پڑے گی۔ اسلام آباد ٹیکسی ڈرائیور یونین کے نائب صدر محمد رمضان نے بتایا کہ اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپینڈی میں دس ہزار کے قریب رجسٹرڈ ٹیکسیاں ہیں اور انہیں چلانے والوں میں اسلام آباد کے سرکاری ملازمین کی تعداد ایک ہزار ہے اور اس تعداد میں گذشتہ دو تین سال کے دوران مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکسی گاڑی چلانے والوں میں اعلیٰ سرکاری اداوں کے ملازمین کی بھی بڑی تعداد ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد بغیر رجسٹرڈ ٹیکسیاں بھی چلاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے ملازمین کی تعداد میں اس سال سے نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد کی ایک مارکیٹ آب پارہ میں وزارت پیٹرولیم میں کام کرنے والے شاہد مہنگائی کی وجہ سے شام کے اوقات میں برگر
اور سوپ فروخت کرنے کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دفتر سے چھٹی کے بعد ایک دو جگہ کام کرنا اب سب کی مجبوری بن گئی ہے۔
واضع رہے کہ مہنگائی کی وجہ سے پاکستان میں خودکشی جیسے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں جبکہ مبصرین کے مطابق حکومتیں عوام کے معاشی مسائل حل کرنے کے دعوے اکثر کرتی نطر آتی ہیں لیکن خود حکومتی ملازمین مہنگائی کی وجہ سے دو دو جگہ کام کر رہے ہیں جس سے سرکاری اداروں کی کارکرگی متاثر ہو سکتی ہے۔ |
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||