|
پاکستان: پرندے پچاس فیصد کم
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں دنیا کے سرد خطوں سے ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کی تعداد میں پچاس
فیصد سے زائد کمی آئی ہے جس کی ایک وجہ ان پرندوں کا بڑے پیمانے پر ہونے والا غیرقانونی شکار ہے۔
موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی یورپ اور وسط ایشیاء کے سرد ملکوں کے پرندے خوراک کی تلاش میں پاکستان کا رخ کرتے ہیں اور اپنے اپنے مزاج کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں جھیلوں اور دلدلی علاقوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ ان میں باز، مرغابیاں، تلور، ہنس اور دوسرے پرندے شامل ہوتے ہیں۔ یہ پرندے ہر سال چار ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل فاصلہ طے کر کے پاکستان پہنچتے ہیں اور یہ سلسلہ کئی صدیوں سے جاری ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ایک ماہر کے مطابق حالیہ برسوں میں ان پرندوں کی تعداد میں کم سے کم پچاس فیصد کمی آئی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے لیے کام کرنے والے پرندوں کے ماہر جہانگیر درانی نے اس کی مثال کچھ یوں دی کہ (صوبہ سندھ کے ضلع) ’ٹھٹہ میں
واقع ہالیجی جھیل جو ان آبی پرندوں کی آبادی کے لحاظ سے پرندوں کی جنت کہلاتی تھی، وہاں اب جو پرندے نظر آتے ہیں وہ پہلے کا تیس
فیصد بھی نہیں ہیں۔ اسی طرح کینجھر جھیل میں ان پرندوں کی تعداد کبھی ڈیڑھ لاکھ دو لاکھ سے اوپر ہوتی تھی لیکن پرسوں میں نے وہاں
کا دورہ کیا تو بمشکل دو ہزار پرندے بھی نہیں ہیں‘۔
ان جھیلوں پر ان کے بقول اس وقت بھی اتنے جال لگے ہوئے ہیں کہ انہیں شمار کرنا مشکل ہے۔ ’رات کو یہ لوگ جھیلوں کے کناروں پر پہلے سے جال لگاکر لاؤڈ اسپیکرز پر مرغابیوں کی آوازوں کی ریکارڈنگ چلاتے ہیں جس سے دھوکہ کھاکر اوپر سے گزرنے والی مرغابیوں کی ٹولیاں نیچے اتر آتی ہیں اور جال میں پھنس جاتی ہیں اور پھر انہیں یہ لوگ فروخت کرتے ہیں‘۔ حکومت سندھ کے محکمہ جنگلی حیات کے اہلکار فیاض احمد کا کہنا ہے کہ جال لگاکر پرندے پکڑنا غیرقانونی ہے اور ان کا محکمہ اس میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔ ’بدقسمتی سے جیسے ہی یہ پرندے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں تو ملک میں شکار کا سیزن بھی شروع ہوجاتا ہے جس کے لیے ہم باقاعدہ لائسنس جاری کرتے ہیں جو سال بھر کے لیے کارآمد ہوتا ہے اور اس کی دو ہزار روپے فیس مقرر ہے لیکن اس کے تحت بھی ہفتے میں صرف دو دن ہفتہ اور اتوار کو اور وہ بھی صرف بندوق سے شکار کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔،، غیرقانونی شکار سے جن پردیسی پرندوں کی تعداد سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے ان میں تلور اور باز شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے پاکستانی شہریوں پر تو ان دونوں پرندوں کے شکار پر پابندی عائد کردی ہے تاہم عرب ریاستوں کے بااثر افراد کو اس کے لیے خصوصی اجازت نامے دئے جاتے ہیں۔ فیاض احمد کہتے ہیں ’وہ اجازت نامہ وفاقی حکومت دیتی ہے ان کا اپنا طریقہ کار ہے اور وہاں کے شاہی خاندانوں سے جن کا تعلق ہے انہیں دیتی ہے لیکن یہ پچھلے
اس بارے میں مرکزی حکومت کا موقف جاننے کے لیے وفاقی وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی اور وفاقی حکومت کے محکمہ جنگلی حیات کے کنزرویٹر امید خالد سے رابطے کی بار ہا کوشش کی لیکن بات نہیں ہوسکی۔ ماہرین کے مطابق جھیلوں میں صنعتی اور بلدیاتی فضلے کا اخراج، درختوں کی کٹائی، خشک سالی اور جھیلوں میں پانی کی کمی کے علاوہ ان آبی پرندوں کے بسیروں کے اطراف صنعتی اور شہری تعمیرات بھی ایسے عوامل ہیں جو ان پرندوں کی تعداد میں کمی کا سبب بنے ہیں۔ |
اسی بارے میں
ہالیجی جھیل کے مگر مچھ بپھر گئے14 August, 2004 | پاکستان
محبتی جوڑے کہاں جائیں؟ 12 May, 2006 | پاکستان
منگلا جھیل میں مردہ پرندے24 February, 2006 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||