|
گاڑیوں کی صنعت بحران کا شکار
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جاری معاشی بحران نے دوسری صنعتوں کے ساتھ گاڑیاں بنانے کی صنعت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور ان کی پیداوار میں
چالیس فیصد تک کمی ہوئی ہے۔
یہ بات کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجم نثار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ تازہ اعدادو شمار کے مطابق اس سال جولائی سے اکتوبر یعنی چار ماہ میں ملک میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی تعداد انتیس ہزار ہے جبکہ گزشتہ سال ان ہی چار ماہ کے دوران بننے والی گاڑیوں کی تعداد اکاون ہزار تھی۔ انہوں نےکہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں گاڑیوں کی پیداوار میں تقریباً چالیس فیصد کمی آئی ہے اور نئی تیار ہونے والی انتیس ہزار گاڑیوں میں بھی کافی تعداد میں گاڑیاں اب تک فروخت نہیں ہوئی ہیں۔ انجم نثار کا کہنا ہے کہ صرف گاڑیوں کی صنعت ہی نہیں بلکہ تمام صنعتوں کا یہ ہی حال ہے کہ ان کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ پیداوار میں کمی کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیداواری لاگت، بجلی کے نرخ، تیل کی قیمتوں، اور سامان کی ترسیل کی لاگت میں اضافہ جبکہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں بھی اضافہ پیداوار میں کمی کی وجوہات ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں گزشتہ سال تک ایکسائز اینڈ ٹیکسزیش ڈیپارٹمنٹ میں اوسطاً چار سو سے زیادہ گاڑیاں یومیہ رجسٹر ہورہی تھیں تاہم حکام کے مطابق اب ان کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور اب روزانہ اوسطاً ایک سو ستر گاڑیاں رجسٹر ہورہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان آٹوموٹِو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور ان کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ پہلے لوگ روٹی اور چھت کا بندوبست کرتے ہیں جبکہ گاڑی کا حصول تو بعد کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں تو لوگ پہلے اس کی فکر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک، امریکہ اور جاپان کے مقابلے میں پاکستان میں گاڑیوں کی صنعت ابھی نئی ہے اور ابھی یہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے کی کوشش ہی کررہی تھی کہ اسے بٹھادیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی فروخت میں کمی کی وجہ سے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے ان کی پیداوار میں بھی کمی کردی ہے کیونکہ جب تک تیار گاڑیاں ہی فروخت نہیں ہوں گی تو مزید نئی گاڑیاں بنا کر کیا کریں گے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ حکومت کے دور میں شرح سود میں خاطر خواہ کمی کی وجہ سے لیزنگ کمپنیوں اور بینکوں نے اداروں اور انفرادی افراد کو قرضے کم سود اور آسان اقساط میں دینا شروع کردیے تھے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی فروخت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب جبکہ شرح سود میں تین بار اضافہ کیا جاچکا ہے، گاڑیوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں ہیں اور مہنگائی نے بھی جینا دوبھر کردیا ہے تو اب پہلے جیسے حالات نہیں رہے اور لوگوں کی قوتِ خرید بھی کم ہوئی ہے اور یہ ہی وہ تمام عوامل ہیں جنہوں نے گاڑیوں کی فروخت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سال مئی میں جاری ہونے والی اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق صنعتوں میں بڑے پیمانے پر اشیاء سازی کے شعبے میں مالی سال 2008 کی ابتداء میں معقول نمو کے جو امکانات پائے جاتے تھے وہ بجلی کے بڑھتے ہوئے بحران اور اجناس کی بلند عالمی قیمتوں کے ساتھ ملک میں تقریباً سال بھر سے جاری سیاسی افراتفری کی وجہ سے دھندلا گئے، اور اس طرح صنعتی شعبے نے مالی سال2007-08 کے پہلے نو ماہ میں محض 4.8 فیصد نمو حاصل کی جبکہ مالی سال 2006-07کے اسی عرصے میں یہ نمو نو فیصد رہی تھی۔ |
اسی بارے میں
گاڑیوں کی گرانی26 January, 2005 | پاکستان
بتیس مرسیڈیز سمیت 55 گاڑیاں 10 June, 2006 | پاکستان
اور اب گاڑیاں، ڈرائیور بھی واپس 28 November, 2007 | پاکستان
کراچی میں آلودگی، گاڑیوں پر پابندی 24 January, 2008 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||