|
ڈپلومیٹک سکیورٹی، نئی فورس کی تشکیل
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تعینات سفارتکاروں اور دوسری اہم شخصیات کی حفاظت کے لیے اسلام آباد کانسٹیبلری کے نام سے
ایک نئی فورس بنائی جائے گی جس میں دس ہزار افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بھی بلوچستان کانسٹیبلری اور صوبہ سرحد میں سیکورٹی فورس کے نام سے سپیشل پولیس فورس میں مزید سولہ ہزار افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔ پاکستان میں غیر ملکی سفارتکاروں کے لیے حکومت کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے توقعات سے بڑھ کر اقدامات کیے ہیں لیکن اس کے برعکس حالیہ کچھ عرصے کے دوران شدت پسندوں نے بندوبستی علاقوں میں رہائش پذیر سفارتکاروں کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حکومت نے ان سفارتکاروں کے لیے نہ صرف علیحدہ جگہ فراہم کی ہے بلکہ ان کی حفاظت کے لیے ڈپلومیٹک پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے نام سے سیکورٹی کا ایک الگ محکمہ بھی بنا رکھا ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکورٹی شیڈول کے مطابق اسلام آباد میں تعینات ہر ملک کے سفیر، ڈپٹی سفیر اور قونصلر کو ایک ایک گن مین مہیا کیا جاتا ہے۔ اور موجودہ صورتحال میں جو سفارتحانے شہر کے رہائشی علاقوں میں واقع ہیں اُن ممالک کے سفیروں کو اُن کی رہائش گاہ سے لیکر اُن کے سفارتخانوں اور واپس رہائش گاہ تک پولیس سکواڈ میں لے جایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایک پولیس اہلکار سفارتکاروں کی رہائش گاہوں کے باہر تعینات ہیں جبکہ اس کے علاوہ مختلف ملکوں کے سفارتکاروں
نے پرائیویٹ سیکورٹی کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔
اس پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ سفارتخانوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے اس محکمے میں افرادی قوت کی بہت کمی ہے جس کی وجہ سے ہر سفارتکار کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت ڈپلومیٹک پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ میں پولیس اہلکاروں کی نفری ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اُُن کا کہنا تھا کہ اس وقت ڈپلومیٹک انکلیو میں پچیس سفارتخانے کام کررہے ہیں جبکہ تین سفارتخانوں کی عمارتیں زیر تعمیر ہیں۔ ڈپلومیٹک انکلیو میں اقوام متحدہ کے دفاتر بھی کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 56 ممالک کے سفارتخانے اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں میں واقع ہیں۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ نفری کی کمی کو فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کی مدد سے کسی حد تک پورا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سفارتکاروں کو اسلام آباد کے علاوہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں جانا ہو تو اُس کے لیے اُنہیں دفتر خارجہ سے این او سی لینا پڑتا ہے جس کی روشنی میں وزارت داخلہ اُس شہر کی پولیس اور انتظامیہ کے افسران کو مذکورہ غیر ملکی سفارتکار کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کے بارے میں ہدایت جاری کرتی ہے۔ حکومت نے سفارتکاروں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سفارتی عملے کے لیے مخصوص سی ڈی نمبر پلیٹ نہ لگائیں۔ اس سلسلے میں ان کو ایکسائز
اور ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ سے نمبر پلیٹیں بھی دی گئی ہیں۔ تاہم سفارتکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سی ڈی نمبر پلیٹ گاڑی میں ضرور رکھیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے سبب اسلام آباد میں رہائش پذیر متعدد سفارتکاروں نے اپنے اہلخانہ اور بچوں کو واپس بھجوا چکے ہیں۔ غیر ملکی سفارتکار متعدد بار سیکورٹی کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں اور وزارت داخلہ اُنہیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود سفارتکار وزارت داخلہ کی ان یقین دہانیوں پر کان دھرتے دکھائی نہیں دیتے اور اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ڈپلومیٹک انکلیو میں رہائش پذیر سفارتکاروں نے اسی علاقے میں ڈیپارمنٹل سٹور کھولنے کا بھی مطالبہ کیا تھا جو پورا کردیا گیا۔ پاکستانی حکومت نے اسلام آباد میں رہائش پذیر تمام سفارتکاروں کو ایک ہی جگہ پر اکھٹا کرنے کے لیے جگہ بھی مختص کر دی گئی ہے اور اس حوالے سے تمام صوبوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے صوبوں میں رہائش پذیر مختلف سفارتکاروں اور مختلف ملکوں کے قونصلیٹ کی عمارتوں کے لیے الگ جگہ مختص کریں۔ |
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||