Monday, 06 October, 2008, 12:46 GMT 17:46 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
کوئٹہ میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد بلوچستان میں اس سال پولیو کے مریضوں کے تعداد چھ ہوگئی ہے جبکہ پاکستان بھر میں اس سال اڑسٹھ افراد پولیو وائرس کا شکار ہوئے ہیں ۔
اقوام متحدہ کے ادارے کے ساتھ پولیو کے مرض کے خلاف جاری مہم میں شریک ڈاکٹر غفار بلوچ نے بتایا ہے کہ کوئٹہ کے مضافات میں پشتون آباد کے علاقے میں حافظہ نامی ایک افغان بچی میں پولیو کے مرض کی تصدیق ہو گئی ہے۔
حافظہ کا خاندان گزشتہ بیس پچیس برس سے یہیں آباد ہے لیکن افغانستان آنا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچی نے آٹھ مرتبہ پولیو کے قطرے لیے ہیں لیکن بیماری کا شکار ہونے سے پہلے جو قطرے پلائے گئے حافظہ نے وہ قطرے نہیں لیے تھے۔
حافظہ کو ستمبر میں بیماری ہوئی جس کے بعد اس کے پاخانے کے نمونے اسلام آباد بھجوائے گئے تھے جہاں ڈاکٹروں نے پولیو کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں پولیو کے مرض کی تحقیق کے لیے ایک ہی لیبارٹری اسلام آباد میں قائم ہے اس لیے مرض کی تصدیق میں کافی وقت صرف ہو جاتا ہے۔
گزشتہ سال بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا لیکن اس سال ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی پولیو کے مریض سامنے آ رہے ہیں اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقے افغانستان کی سرحد کے ساتھ پائے جانے والے علاقے ہیں۔ کوئٹہ کے علاوہ پانچ مریضوں کا تعلق قلعہ عبداللہ، لورالائی، زیارت، چمن، اور بارکھان سے بتایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ادھر خضدار کے قریب تحصیل مولا میں گیسٹرو کی بیماری پھیل گئی ہے جس سے دو درجن سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں لیکن کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ خضدار کے محکمہ صحت کے افسرڈاکٹر مراد مینگل نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عید سے پہلے دو ہلاکتوں کی اطلاع تھی لیکن تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ انہیں گیٹسرو کا مرض نہیں تھا۔